دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 397

دعوت الامیر — Page 163

دعوة الامير حضرت اقدس نے اس رؤیا کے بعد جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ گرنتھ صاحب میں جو با واصاحب علیہ الرحمۃ کے مواعظ کی کتاب ہے نماز پنجگانہ اور روزہ اور زکوۃ اور حج کی سخت تاکید ہے اور ان کے بجانہ لانے پر سخت تہدید کی گئی ہے۔بلکہ سکھوں کی کتب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باوا صاحب علیہ الرحمہ مسلمان اولیاء کے ساتھ جا کر رہا کرتے تھے، ان کے مقابر پر اعتکاف کرتے تھے اور ان کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔آپ حج کو تشریف لے گئے تھے اور بغداد وغیر ہا اسلامی آثار کی بھی آپ نے زیارت کی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ بات معلوم ہوئی کہ با واصاحب کا ایک کوٹ ہے جو سکھ صاحبان نے بطور تبرک رکھا ہوا ہے اور انہیں کے قبضہ میں ہے اس میں سور و آیات قرآنیہ جیسے سورۃ اخلاص و آیت الکرسی و آیت انَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهُ الْإِسْلَامُ (آل عمران : ۲۰) لکھی ہوئی ہیں اور کلمہ شہادت بھی جلی قلم سے لکھا ہوا ہے سکھ صاحبان بوجہ عربی سے ناواقفیت کے اس کلام کو آسمانی رموز سمجھتے رہے اور یہ نہ معلوم کر سکے کہ یہ باوا صاحب علیہ الرحمہ کا اعلان اسلام ہے۔آپ نے ان زبر دست دلائل کو جو خود سکھ صاحبان کی کتب سے مستنبط ہیں یا ان کے پاس جو تبرکات محفوظ ہیں ان پر ان کی بنیاد ہے بڑے زور شور سے سکھوں میں پھیلا نا شروع کیا اور ان کو توجہ دلائی کہ باو اصاحب علیہ الرحمہ مسلمان تھے۔یہ حربہ سکھوں کے اندر تغیر پیدا کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور امید ہے کہ جوں جوں سکھ صاحبان اصل حقیقت سے واقف ہوں گے ان پر ثابت ہوتا جائے گا کہ وہ ہمارے بچھڑے ہوئے بھائی ہیں۔اسلام ہی ان کا مذہب ہے اور وہ کئی سو سال پہلے کے سیاسی جھگڑوں کو جن کا اصل باعث جیسا کہ تاریخوں سے ثابت ہوتا ہے مسلمان نہ تھے بلکہ ہند و صاحبان تھے دین حق کی قبولیت کے راستے میں روک نہ بنے دیں گے بلکہ اپنی مشہور بہادری سے کام لیکر تمام عوائق کو دور کر کے