دعوت الامیر — Page 162
دعوة الامير اس کے پھلوں کی شیرینی کی گرویدہ اور اس کے سائے کی ٹھنڈک کی قائل ہو کر مجبور ہوگی کہ اسی کے نیچے آکر بیٹھے۔ایک دین اس حملے کی زد سے کسی قدر بچ رہتا تھا ، یعنی سکھوں کا دین کیونکہ باوا نا نک صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئے ہیں گوان کے یہاں بھی ایک آخری مصلح کی پیشگوئی موجود ہے بلکہ صاف لکھا ہے کہ وہ بٹالہ کے علاقے میں ہوگا جنم ساکھی بھائی بالا ہندی ناشر پنجاب یو نیورسٹی چندی گڑھ صفحہ ۲۱۱- ۲۱۲) بٹالہ وہ تحصیل ہے جس میں قادیان کا قصبہ واقع ہے۔گویا یہ پیشگوئی لفظاً لفظاً پوری ہو چکی ) لیکن ان کی طرف سے یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خَاتَمَ النَّبِيِّينَ تھے۔تو آپ کے بعد اس مذہب کی بنیاد کیونکر پڑی۔سواس مذہب کی اصلاح اور اس کو اسلام میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حربہ دیا کہ آپ کو رویا میں بتایا گیا کہ باوا نانک رحمتہ اللہ علیہ نے کوئی نیا دین نہیں نکالا بلکہ وہ پکے مسلمان تھے۔اے بادشاہ! آپ یہ سنکر تعجب کریں گے کہ یہ بظاہر عجیب نظر آنے والی بات ایسے زبر دست دلائل کے ساتھ پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ہزاروں سکھوں کے دلوں نے اس امر کی صداقت کو قبول کر لیا اور وہ سکھ جو اس سے پہلے اپنے آپ کو ہندوؤں کا جزو قرار دیا کرتے تھے بڑے زور سے جد و جہد کرنے لگے کہ وہ ہندوؤں سے علیحدہ ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود کے اس دعوے سے پہلے سکھ گوردواروں میں ہندوؤں کے بت رکھے ہوئے تھے اس دعوے کے بعد گو سکھ قوم نے بحیثیت قوم تو ابھی اسلام کو قبول نہیں کیا، مگر ایسا تغیر عظیم اُس میں واقع ہوا کہ اُس نے گوردواروں میں سے بت چن چن کر باہر پھینکنے شروع کر دیئے اور ہندو ہونے سے صاف انکار کر دیا۔