دعوت الامیر — Page 6
دعوة الامير وہ اُسی طرح دنیا پر حکومت کر رہا ہے جس طرح کہ وہ پہلے کرتا تھا، اس کی صفات کسی وقت بھی معطل نہیں ہوتیں۔وہ ہر وقت اپنی قدرت نمائی کر رہا ہے۔۴۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہیں اور يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (النحل: ۵۱) کے مصداق ہیں، اس کی حکمت کا ملہ نے انہیں مختلف قسم کے کاموں کے لیے پیدا کیا ہے وہ واقع میں موجود ہیں، ان کا ذکر استعارہ نہیں ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے اسی طرح محتاج ہیں جس طرح کہ انسان یا دیگر مخلوقات اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے اظہار کے لئے ان کا محتاج نہیں وہ اگر چاہتا تو بغیر ان کے پیدا کرنے کے اپنی مرضی ظاہر کرتا مگر اس کی حکمت کا ملہ نے اس مخلوق کو پیدا کرنا چاہا اور وہ پیدا ہوگئی جس طرح سورج کی روشنی کے ذریعہ سے انسانی آنکھوں کو منور کرنے اور روٹی سے اُس کا پیٹ بھرنے سے اللہ تعالیٰ سورج اور روٹی کا محتاج نہیں ہو جاتا۔اسی طرح ملائکہ کے ذریعہ سے اپنے بعض ارادوں کے اظہار سے وہ ملائکہ کا محتاج نہیں ہو جاتا۔۵۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور اپنی مرضی ان پر ظاہر کرتا ہے یہ کلام خاص الفاظ میں نازل ہوتا ہے اور اس کے نزول میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہوتا نہ اس کا مطلب بندے کا سوچا ہوا ہوتا ہے نہ اس کے الفاظ بندے کے تجویز کئے ہوئے ہوتے ہیں، معنی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور الفاظ بھی اسی کی طرف سے۔وہی کلام انسان کی حقیقی غذا ہے اور اسی سے انسان زندہ رہتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے اُسے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔وہ کلام اپنی قوت اور شوکت میں بے مثل ہوتا ہے اور اس کی مثال