دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 397

دعوت الامیر — Page 154

(۱۵۴) دعوة الامير دشمنوں کے ہوش و حواس گم ہو گئے۔آپ نے ایک کتاب’براہین احمدیہ لکھی جس میں اسلام کی صداقت کے دلائل کو بوضاحت بیان فرمایا اور دشمنان اسلام کو چیلنج دیا کہ اگر وہ اپنے مذاہب سے پانچواں حصہ دلائل بھی نکال دینگے تو آپ ان کو دس ہزار روپیہ دیں گے۔( براہین احمدیہ چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۷۔۲۸) باوجود ناخنوں تک زور لگانے کے کوئی دشمن اس کتاب کا جواب نہ دے سکا اور ہندوستان کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک شور پڑ گیا کہ یہ کتاب اپنی آپ ہی نظیر ہے دشمن حیران رہ گئے کہ یا تو اسلام دفاع کی بھی طاقت نہ رکھتا تھا یا اس مرد میدان کے بیچ میں آکودنے کے سبب سے اس کی تلوار ادیان باطلہ کے سر پر اس زور سے پڑنے لگی ہے کہ ان کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے ہیں۔اس وقت تک آپ نے مسیحیت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور نہ لوگوں میں آپ کی مخالفت کا جوش پیدا ہوا تھا اور وہ تعصب سے خالی تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں مسلمانوں نے علی الاعلان کہنا شروع کر دیا کہ یہی شخص اس زمانے کا مجدد ہے بلکہ لدھیانے کے ایک بزرگ نے جو اپنے زمانے کے اولیاء میں سے شمار ہوتے تھے یہاں تک لکھدیا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہیں پر نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے ! ( تأثرات قادیان مؤلف ملک فضل حسین صفحہ ۶۷ مطبوعہ مسلم پرنٹنگ پریس لاہور دسمبر ۱۹۳۸ء میں یہ شعر اس طرح درج ہے سب مریضوں کی ہے تمہی پہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے ) اس کتاب کے بعد آپ نے اسلام کی حفاظت اور اس کی تائید میں اس قدر کوشش کی کہ آخر دشمنان اسلام کو تسلیم کرنا پڑا کہ اسلام مردہ نہیں بلکہ زندہ مذہب ہے اور ان کو فکر پڑگئی کہ ہمارے مذہب اسلام کے مقابلہ میں کیونکر ٹھہریں گے۔اور اس وقت اس مذہب