دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 397

دعوت الامیر — Page 142

۱۴۲ دعوة الامير بلکہ اس کے متعلق تمہارے آگے اشارہ بھی نہ کرتا، چنانچہ اس سے پہلے میں نے تمہارے اندر ایک عمر گزاری ہے کیا تم اس پر نظر کرتے ہوئے اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ میرے جیسا انسان جھوٹ نہیں بول سکتا، بلکہ جو کچھ کہ رہا ہے سچ کہ رہا ہے۔یہ ایک دلیل ہے جو قرآن کریم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی دی ہے اور یہ دلیل ہر راستباز کے دعوی کی سچائی پر کھنے کے لئے ایک زبر دست معیار ہے۔سورج کی دلیل اس سے زبر دست اور کچھ نہیں کہ خود سورج موجود ہے۔اسی طرح صادق اور راستباز کی صداقت کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل اس کا اپنا نفس ہے جو پکار پکار کر کہتا ہے مخالفوں اور موافقوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے ، ناواقفوں اور واقفوں سے کہتا ہے، بقیہ حاشیہ: اور یہ کہ وہ کا نا ہوگا (ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء فى ان الدجال لا يدخل المدينة) اور یہ کہ وہ مدینہ میں نہیں آسکے گا (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء في ذكر ابن صياد) یہ تینوں باتیں ابن صیاد میں نہیں پائی جاتی تھیں ، وہ کانا نہ تھا، اس کے ماتھے پر کا فرلکھا ہوا، دوسرے مومنوں کو تو الگ رہا خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نظر نہیں آیا اور وہ مدینے میں موجود تھا اگر دجال کی نسبت جس قدر اخبار تھیں وہ اپنی ظاہری شکل میں پوری ہونے والی تھیں تو کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے معاملے میں تردد ظاہر کیا اور نہیں بتایا کہ تو نے سنا نہیں میں کہہ چکا ہوں کہ دجال کا نا ہوگا، اس کے ماتھے پر کا فرلکھا ہوگا ، وہ مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا کیا آپ کا حضرت عمرؓ کے قول کو رد نہ کرنا، بلکہ تر ودکا اظہار کرنا بتا تانہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس امر کو جائز سمجھتے تھے کہ دجال کے متعلق جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ اصل الفاظ میں پوری نہ ہوں بلکہ کسی اور رنگ میں پوری ہو جائیں اور اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دجال کے متعلق اخبار کو تعبیر طلب قرار دیتے تھے تو کسی اور کا کیا حق ہے کہ وہ واقعات سے منہ موڑ کر الفاظ کو پکڑ کر بیٹھ جائے اور ان کے معنوں اور مطلب پر غور نہ کرے۔منہ۔