دعوت الامیر — Page 139
(ra) دعوة الامير تیسری دلیل نفس ناطقہ آفتاب آمد دلیل آفتاب اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ زمانہ پکار پکار کر اس وقت ایک مصلح کو طلب کر رہا ہے اور یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کا مصلح مسیح موعود اور مہدی مسعود کے سوا اور کوئی نہیں اور یہ کہ چونکہ مسیح موعود ہونے کے مدعی صرف بانی سلسلہ احمدیہ ہیں۔اس لئے ان کے دعوی کو رڈ کرنا گویا خدا تعالیٰ کی سنت کا ابطال اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی ہتک ہے۔اب میں جناب کے سیه : حکیم انسان اس سے بچنے کے لئے ان آیات کا حکم دیتا جن میں دجال کا تو ذکر تک نہیں، ہاں مسیحیت کا رد بیان کیا گیا ہے آپ کا ان آیات کو دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے تلاوت کرنے کا ارشاد فرمانا بتاتا ہے کہ آپ کے نزدیک دجال سے مراد مسیحیت کی اشاعت کرنے والے لوگ تھے۔در حقیقت دجال کے پہچاننے میں لوگوں کو سب سے بڑی ٹھو کر یہ لگی ہے کہ وہ اسے ایک آدمی سمجھتے رہے ہیں، حالانکہ وہ ایک آدمی نہیں ہے ، كُتب لغت میں دجال کے معنے یہ لکھتے ہیں۔اَوْمِنَ الدَّجَالِ بِالتَشْدِيدِ لِلزِفْقَةِ الْعَظِيمَةِ تَغَطَّى الْأَرْضَ بِكَفْرَةِ أَهْلِهَا وَقِيلَ هِيَ الوِفْقَةُ تَحْمِلُ الْمَتَاعَ لِلتَجَارَةِ - (تاج العروس جلدے صفحہ ۳۱۸ زیر لفظ (جل) الدَّجَّالُ الزِفْقَةُ الْعَظِيمَةُ (اقرب الموار دجلد ۱ صفحه ۳۲۰ زیر لفظ دجل، مطبوعه ایران ۱۴۰۳ء) یعنی دجال ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں جو زمین کو اپنی کثرت سے ڈھانک دے اور بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ یہ ایسی جماعت کا نام ہے جو اسباب تجارت دنیا میں لئے پھرے اور یہ تعریف