دعوت الامیر — Page 137
(۱۳۷ دعوة الامير صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقف کیا جائے پھر اسے دنیا کی تاریخ کی کتب دیدی جاویں کہ ان کو پڑھ کر بتاؤ کہ مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا کونسا زمانہ ہے تو آدم علیہ السلام کے زمانے سے شروع کر کے اس زمانے کے شروع ہونے تک کسی ایک زمانے کو بھی مسیح موعود کا زمانہ قرار نہیں دیگا لیکن جونہی وہ اس زمانے کے حالات کو پڑھے گا بے اختیار بول اٹھے گا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھا سچ ہے تو مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا یہی زمانہ ہے کیونکہ وہ ایک طرف دین سے بے توجہی کو دیکھے گا دوسری طرف علوم دنیاوی کی ترقی کو دیکھے گا، مسلمانوں کی حکومت کو بعد اقتدار کے ضعیف پائے گا، مسیحیت کو تنزل کے بعد ترقی کی طرف قدم مارتا ہوا دیکھے گا۔مسیحیت کے ماننے والوں کو ساری دولت پر قابض مگر اس کے مخالفوں کو غریب پائے گا، باوجو د طب اور سائنس کی ترقی کے طاعون اور انفلوئنزا کی اجاڑ دینے والی تباہی کا نقشہ اس کی آنکھوں کے سامنے آئے گا، بیماریوں کو اس زمانے میں کیڑوں کی طرف منسوب کئے جانے کا حال اسے معلوم ہوگا ، رسوم اور بدعات میں لوگوں کو مبتلا ء پائے گا ، ریل اور دخانی جہازوں کی خبر پڑھے گا ، بنکوں کی گرم بازاری کا نقشہ دیکھے گا۔زلزلوں کی کثرت معلوم کرے گا ، یا جوج اور ماجوج کی حکومت کا دور دورہ پائے گا، آسمان پر چاند اور سورج گرہن اس کی آنکھوں کو کھولے گا، زمین پر دولت کی کثرت، مزدوروں کی یہ ترقی اس کی توجہ کو اپنی طرف پھیریں گی ، غرض ایک ایک صفحہ اس زمانے کی تاریخ کا اور اس صدی کے واقعات کا اس کو اس امر کی طرف توجہ دلائے گا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کا ہے وہ ایک ایک چیز پر نظر نہیں ڈالے گا بلکہ مجموعی طور پر سب نشانات پر غور کرے گا تو اس کے ہاتھ کانپ جائیں گے اور اس کا دل دھڑکنے لگے گا ، اور وہ بے اختیار کتاب کو بند کر دے گا اور بول اٹھے گا کہ میرا کام ختم ہو گیا ، آگے پڑھنا فضول ہے، مسیح موعود یا تو اسی