دعوت الامیر — Page 133
(rr) دعوة الامير بعض فلکی حالات بھی بیان فرمائے ہیں۔مثلاً یہ کہ اس وقت سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں خاص تاریخوں میں گرہن لگے گا اور اس علامت پر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ رسول کریم نے فرمایا کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے یہ دونوں علامتیں کسی اور نبی کی تصدیق کے لئے ظاہر نہیں ہوئیں ، حدیث کے الفاظ یہ ہیں:انَّ لِمَهْدِيَنَا أَيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنذُ خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَ تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَتِ وَالْأَرْضَ - (سنن دارقطنى باب صفة صلؤة الخسوف والكسوف وهيئتهما جلد ۲ صفحه ۶۵ مطبوعہ مصر ۱۹۶۶ء) یعنی محمد بن علی نے روایت کی ہے کہ ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں۔یہ نشان آسمان وزمین کی پیدائش کے وقت سے لے کر اب تک کبھی ظاہر نہیں ہوئے ، ایک تو یہ کہ قمر (چاند) کو رمضان میں پہلی رات میں گرہن لگے گا اور دوسرا یہ کہ سورج کو اسی رمضان کی درمیانی تاریخ میں گرہن لگے گا اور یہ دونوں باتیں آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے نہیں ہوئیں یہ نشان اپنے اندر کئی خصوصیات رکھتا ہے۔ایک تو یہ کہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ سوائے مہدی کے کسی مدعی کے لئے یہ نشان کبھی ظاہر نہیں ہوا۔دوسرے یہ کہ اس نشان پر کتب اہلسنت وشیعہ متفق ہیں کیونکہ دونوں کی کتب حدیث میں اس کا ذکر ہے۔پس اس میں شبہ تدلیس وغیرہ کا نہیں کیا جاسکتا ، تیسری خصوصیت اس نشان میں یہ ہے کہ جو علامتیں اس میں بتائی گئیں ہیں پہلی کتب میں بھی انہی علامتوں کے ساتھ مسیح کی آمد ثانی کی خبر دی گئی ہے چنانچہ انجیل میں آتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے اپنی آمد کی نشانیوں میں سے ایک یہ علامت بھی بتائی ہے کہ اس وقت سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دیگا۔“ متی باب ۲۴ آیت ۲۹ بائیل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء)