دعوت الامیر — Page 117
(112) دعوة الامير یہ بھی تھی کہ اس کے ذریعے سے اجتماع اسلامی قائم رہے لیکن عربی زبان کو ترک کر دینے کے سبب وہاں لوگ جمع ہو کر بھی فریضہ حج ادا کرنے کے سوا کوئی اجتماعی یا ملی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے ، اگر مسلمان عربی زبان کو زندہ رکھتے تو یہ زبان دنیا کے چاروں گوشوں کے لوگوں کو ایک ایسی مضبوط رتی میں باندھ دیتی جو کسی دشمن کے حملے سے نہ ٹوٹتی۔ایک حالت اس وقت کے تمدن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت عورتیں باوجو د لباس کے نگی ہوں گی (مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۴۳۹) یہ حالت بھی اس وقت دو طرح پیدا ہو رہی ہے۔ایک تو اعلیٰ کپڑا اس قدر سستا ہو گیا ہے کہ عام طور پر لوگ وہ کپڑا پہن سکتے ہیں جو پہلے امراء تک محدود تھا اور کپڑے بھی ایسے بار یک تیار ہونے لگ گئے ہیں کہ ان کا لباس پہنے سے ایک خیالی زینت تو شاید پیدا ہو جاتی ہوگی مگر پردہ یقینا نہیں ہوتا اور اکثر حصہ دنیا کا ان لباسوں کا شیدا ہو رہا ہے اور اسے عورتوں کے لئے زینت خیال کر رہا ہے دوسری صورت یہ ہے کہ اہل یورپ اور امریکہ کی عورتوں کے لباس کا طریق ایسا ہے کہ ان کے بعض قابل ستر حصے ننگے رہتے ہیں، مثلاً عام طور پر اپنی چھاتیاں نگی رکھتیں ہیں، کہنیوں تک باہیں نگی رکھتی ہیں۔پس باوجود لباس کے وہ جنگی ہوتی ہیں۔غرض دو طرح اس علامت کا ظہور ہو رہا ہے۔مسلمانوں میں بار یک ا کپڑے کے استعمال سے اور مسیحیوں میں سینہ اور سر اور بازوؤں کے ننگے رکھنے سے۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے کی جو مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے، یہ بیان فرمائی ہے کہ عورتیں اس وقت اونٹ کے کوہان کی طرح سر کے بالوں کو رکھیں گی (مسلم کتاب اللباس باب النساء الكاسيات العاريات المائلات المميلات)