دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 397

دعوت الامیر — Page 115

(۱۱۵) دعوة الامير علماء اس امر میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کسی امیر کی دوستی کا فخر حاصل ہے یا یوں کہئے کہ اس کی ڈیوڑھی پر جبہ سائی کی عزت نصیب ہے۔اسی طرح حذیفہ ابن الیمان سے روایت ہے کہ ایک زمانہ مسلمانوں پر آنے والا ہے کہ ایک شخص کی تعریف کی جائے گی کہ مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَمَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِيْمَانِ (ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء في رفع الامانة) یعنی کہا جاۓ گا کہ فلاں شخص کیا ہی بہادر ہے۔کیا ہی خوش طبع اور نیک اخلاق ہے اور کیا ہی عقلمند ہے حالانکہ اس شخص کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا۔یہ حالت بھی اس وقت پیدا ہے۔کوئی شخص خواہ کیسا ہی بے دین ہومسلمانوں کے حقوق کا نام لے کر کھڑا ہو جائے۔جھٹ مسلمانوں کا لیڈر بن جائے گا کوئی نہیں پوچھے گا کہ یہ شخص اسلام پر تو قائم نہیں، اسلام کا لیڈر اسے اللہ تعالیٰ نے کیونکر بنا دیا اتنا ہی کافی سمجھا جائے گا کہ یہ عمدہ لیکچرار ہے یا خوب دانائی سے اپنے حریف کا مقابلہ کر سکتا ہے یا سیاسی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے اپنی جان دینے کو تیار ہے۔ایک تغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مومن ذلیل ہوں گے اور لوگوں کے ڈر سے چھپتے پھریں گے۔( حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۵ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) حضرت ابن عباس سے ابن مردویہ نے روایت کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشراط ساعت میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ مومن لونڈی سے بھی زیادہ ذلیل سمجھا جائے گا۔( حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۷ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ )