دعوت الامیر — Page 102
(I۔) دعوة الامير ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری زمانے کی نسبت بروایت ابن عباس ابن مردویہ نے یہ بیان کی ہے کہ اس زمانے میں لوگ ایک طرف تو قرآن کریم سے بے تو جہی کریں گے دوسری طرف اس کے ظاہری سنگھار اور آرائش میں ایسے مشغول ہوں گے کہ زری کے خلاف اس پر چڑھائیں گے۔(حجج الكرامة في آثار القیامۃ صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) یہ علامت بھی پوری ہورہی ہے۔مسلمان قرآن کریم کے پڑھنے سے تو بالکل غافل ہیں اور اس کو کھول کر دیکھنا حرام سمجھتے ہیں لیکن زری کے غلاف چڑھا کر قرآن کریم گھروں میں انہوں نے ضرور رکھ چھوڑے ہیں اور اس کی ظاہری آرائش اس قدر کرتے ہیں کہ قرون اولی کے مسلمانوں میں اس قسم کی آرائش کرنے کا ثبوت نہیں ملتا حالانکہ وہ لوگ کیا بلحاظ تقویٰ اور کیا بلحاظ وجاہت دنیاوی ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر تھے۔ایک تغیر مسلمانوں کی اندرونی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مساجد کو آراستہ کریں گے۔(کنزل العمال جلد ۱۴ روایت ۳۹۷۲۶ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء) اور یہ تغیر بھی اس وقت پایا جاتا ہے۔مسلمان دوسری اقوام کی نقل میں اپنی مساجد کو اس قدر آراستہ کرتے ہیں اور بیل بوٹے بناتے ہیں اور جھاڑ فانوس سے ان کو سجاتے اور خوبصورت پردے ان کی دیواروں پر لٹکاتے ہیں کہ بہ نسبت سادہ اسلامی عبادت گاہ کے بالفاظ حدیث وہ بت خانوں کے زیادہ مشابہ ہیں۔(حجج الكرامة في آثار القيامۃ صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) ایک تغیر اس زمانے کے متعلق آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت عرب کے