دعوت الامیر — Page 97
(92) دعوة الامير مسیحیت کا بہت زور ہوگا۔چنانچہ مسلم میں روایت ہے کہ قیامت اس وقت آئے گی جب کہ اکثر اہل ارض روم ہوں گے اور جیسا کہ علمائے اسلام کا اتفاق ہے روم سے مراد نصاریٰ ہیں، کیونکہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں رومی ہی نصرانیت کے نشان کے حامل اور اس کی ترقی کی ظاہری علامت تھے۔یہ پیشگوئی اس امر کو مدنظر رکھ کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔اِذَا هَلَكَ کسری فَلا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء اذا ذهب کسری فلاکسری بعده) نہایت عظیم الشان نظر آتی ہے کیونکہ رومی حکومت کے اس قدر استیصال کے بعد کہ قیصر کا نام ونشان مٹ جائے۔پھر نصاری کا غلبہ ایک حیرت میں ڈال دینے والی خبر تھی ، مگر خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں۔قیصر کی حکومت مطابق اخبار نبویہ کے مٹ گئی اور ایک عرصہ کے بعد خالی خطاب قیصر کا جو قسطنطنیہ کے بادشاہ کو حاصل تھا فتح قسطنطنیہ پر وہ بھی مٹ گیا اور اسلام دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل گیا مگر دسویں صدی ہجری سے فیج اعوج کا زمانہ پھر شروع ہو گیا اور آہستہ آہستہ مسیحیت نے ان ممالک سے ترقی کرنی شروع کی ، جہاں کہ اس وقت جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیحیت کی دوبارہ ترقی کی خبر دی تھی اس کا نام تک بھی نہ پایا جاتا تھا اور ایک سوسال کے عرصے سے تو گل رُوئے زمین پر مسیحی حکومتیں اس طرح مستولی ہیں کہ اہل الارض الروم کی خبر کے پورا ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔اس پیشگوئی کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ بعض علمائے اسلام نے اس کی نسبت لکھا ہے کہ یہ علامت سب علامات پوری ہو جانے کے بعد پوری ہوگی۔چنانچہ نواب صدیق حسن اے مسلم کتاب الفتن باب تقوم الساعة والروم اكثر الناس