دعوت الامیر — Page 85
(10) دعوة الامير سے کوئی مصلح آنا چاہئے اور وہ بھی بہت بڑی شان کا، جو اسلام کو اپنے قدموں پر کھڑا کرے اور گفر کا دلائل قاطعہ سے مقابلہ کرے اور براہین کی تلوار سے اس کو کاٹے اور صدی کے سر پر تمام دنیا میں سے صرف ایک ہی شخص نے اسلام کی حمایت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے جانے کا دعویٰ کیا ہے یعنی بانی سلسلہ احمدیہ نے۔اس لئے ہر دانا اور عقلمند کا کام ہے کہ ان کے دعوے پر غور کرے اور اس کو سرسری نظر۔دیکھ کر منہ نہ پھیر لے ورنہ اسے ایک قدیم قانون الہی کا منکر ہونا پڑے گا اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنی غفلت کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔اے امیر ! أَيَّدَكَ اللهُ بِنَصْرِهِ الْعَزِيزِ بعض لوگ اس جگہ شبہ پیدا کیا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ کامل وجود تھے اس لئے آپ کے بعد اب کسی مصلح اور راہنما کی ضرورت نہیں۔اب قرآن کریم ہی مصلح ہے اور اس کی قوت قدسیہ ہی راہنما ہے۔یہ خیال ان لوگوں کا بظاہر تو نہایت خوبصورت نظر آتا ہے مگر اس پر غور کیا جائے تو قرآن کریم اور حدیث اور عقل اور مشاہدات کے صریح خلاف معلوم ہوتا ہے۔قرآن اور حدیث کے خلاف اس لئے کہ ان میں صاف طور پر آئندہ زمانوں میں مجددین اور مامورین کی بعثت کی خبر دی گئی ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مجددکا مبعوث ہونا یا مامور کا کھڑا کیا جانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ہونے کے خلاف ہوتا تو آپ کو سب نبیوں کا سردار بنانے والا خدا اور کمال تک پہنچانے والا آقا خود ہی کیوں آئندہ زمانے میں مجددین اور مامورین کی بعثت کا وعدہ دیتا۔کیا وہ اپنے کام کو آپ تو ڑتا اور اپنے قول کو آپ رد کرتا ؟ اور پھر کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ زمانے میں مجد دین اور مامورین کی آمد کی اطلاع دیتے ؟ کیا آپ کے کمال سے آپ کی نسبت ہم زیادہ واقف ہیں کہ آپ تو اپنے