دعوت الامیر — Page 80
دعوة الامير جانتا ہو، مگر وہ بے معنی نماز بھی جو لوگ پڑھتے ہیں، اسے اس طرح چھٹی سمجھ کر پڑھتے ہیں کہ رکوع اور سجدے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور نماز میں اپنی زبان میں دعا مانگنا تو کفر ہی سمجھا جانے لگا ہے۔روزہ اول تو لوگ رکھتے نہیں اور جولوگ رکھتے ہیں تو جھوٹ اور غیبت سے بجائے موجب ثواب ہونے کے وہ ان کے لئے موجب عذاب ہوتا ہے۔ورثہ کے احکام پس پشت ڈالے جاتے ہیں۔سود جس کا لینا خدا سے جنگ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، علماء کی مدد سے ہزاروں حیلوں اور بہانوں کے ساتھ اس کی وہ تعریف بنائی گئی ہے اور اس کے لئے ایسی شرائط لگادی ہیں کہ اب شاید ہی کوئی سود کی لعنت سے محفوظ ہو، مگر باوجود اس کے مسلمانوں کو رفاہت اور دولت حاصل نہیں جو غیر اقوام کو حاصل ہے۔اخلاق فاضلہ جو کسی وقت مسلمانوں کا ورثہ اور اس کے حق سمجھے جاتے تھے اب مسلمانوں سے اس قدر دور ہیں جس قدر گفر اسلام سے کسی زمانے میں مسلمانوں کا قول نہ ٹلنے والی تحریر سمجھا جاتا تھا اور اس کا وعدہ ایک نہ بدلنے والا قانون ، مگر آجکل مسلمان کی بات سے زیادہ کوئی اور غیر معتبر قول نہیں ملتا اور اس کے وعدے سے زیادہ اور کوئی بے حقیقت سے نظر نہیں آتی۔وفا بے نام ہوگئی۔راستی کھوئی گئی۔حقیقی جرات مٹ گئی۔غداری، جھوٹ ، خیانت اور بزدلی اور تہور نے اس کی جگہ لے لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سب دنیا دشمن ہے۔تجارتیں تباہ ہوگئی ہیں ، رعب مٹ گیا ہے۔علم جو کسی وقت مسلمانوں کا رفیق تھا اور ان کی رکاب ہاتھ سے نہ چھوڑتا تھا آج ان سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔صوفیاء کا حال خراب ہے۔وہ دین کو بے دینی اور قانون کو اباحت بنارہے ہیں ، علماء شقاق ومخالفت پھیلانے کے علاوہ اپنے اقوال کو خدا اور رسول کے اقوال ظاہر کر کے اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے میں مشغول ہیں۔امراء گو دوسری اقوام کے امراء