دعوت الامیر — Page 50
(o۔) دعوة الامير کرتا ہے کیونکہ فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب: ۳۱) کہ محمد ستم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں پس اب کوئی نبی نہیں آسکتا، لیکن قرآن کریم کھول کر نہیں دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ بِفَتْحِ ” تا “ فرماتا ہے نہ بگشرِ ”تا“۔اور خَاتَمَ بِفَتْحِ ”تا“ کے معنی مہر کے ہوتے ہیں نہ کہ ختم کر دینے کے اور مہر تصدیق کے لئے لگائی جاتی ہے پس اس آیت کے تو یہ معنی ہوں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی مہر ہیں ، چنانچہ امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں خاتم النبین کے معنی نبیوں کی مہر والے نبی کے ہی کئے ہیں اور اس آیت کی تشریح میں وہ احادیث نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ایک مہر نبوت تھی۔(بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبوة ) کاش! لوگ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرتے تو اُن کو یہ دھوکا نہ ہوتا ، اگر وہ یہ دیکھتے کہ اس آیت میں مضمون کیا بیان ہو رہا ہے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ پہلے اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور پھر اس کے بعد لکن لا کر رسول اور خاتم النبین کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔اب یہ بات ظاہر ہے کہ لکن ازالہ شبہ کے لئے آیا کرتا ہے اور یہ بات ہر ایک مسلمان جانتا ہے کہ پہلے فقرے سے یہی شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ سورہ کوثر میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُه (سورة الكوثر - آیت ۴) تیرا دشمن ہی ابتر ہے تو ابتر نہیں اور یہاں خود تسلیم فرماتا ہے کہ آپ کی نرینہ اولاد نہ ہوگی پس اس شبہ کے ازالہ کے لئے لفظ لکن استعمال فرما کر بتایا کہ اس بیان سے بعض لوگوں کے دلوں میں ایک شبہ پیدا ہوسکتا ہے اس