دعوت الامیر — Page 349
۳۴۹ دعوة الامير رہے، یہودی یہودی نہیں رہے اور پارسی پارسی نہیں رہے بلکہ ایک عقلی مذہب ان مذاہب کی رسوم کی چادر میں لپٹا ہوا سب جگہ پھیل رہا ہے نام مختلف ہیں مگر خیالات سب دنیا کے ایک ہو رہے ہیں۔اس حال میں آپ کا یہ دعویٰ کرنا کہ جو لوگ اپنے پہلے نبیوں سے بیزار ہو کر نیچر کی اتباع میں مشغول ہیں آپ کو مان لیں گے بظاہر ناممکن الوقوع دعوی تھا، پھر آپ اُردو اور عربی اور فارسی کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتے تھے اور آپ ہندوستان کے باشندے تھے جس ملک کے باشندے آج سے تیس ۳۰ سال پہلے عرب اور ایران میں نہایت حقیر سمجھے جاتے تھے۔کب اُمید کی جاسکتی تھی کہ عرب، ایران، افغانستان ،شام اور مصر کے باشندے ایک ہندوستانی پر ایمان لے آئیں گے کون کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان کے انگریزی پڑھے ہوئے لوگ جو قرآن کریم کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام قرار دینے لگ گئے تھے اس بات کو مان لیں گے کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور پھر ایسے آدمی سے جو انگریزی کا ایک لفظ نہیں جانتا جو ان کے نزدیک سب سے بڑا گناہ تھا پھر کونسی عقل تھی جو یہ تجویز کر سکتی تھی کہ السنہ مغربیہ سے ناواقف ،علومِ مغربیہ سے ناواقف ، رسوم و عاداتِ مغربیہ سے ناواقف انسان جو اپنے صوبہ سے بھی باہر بھی نہیں گیا ( حضرت اقدس علیہ السلام پنجاب سے باہر صرف علی گڑھ تک تشریف لے گئے ہیں ) وہ ان ممالک کے لوگوں تک اپنے خیالات کو پہنچا دیگا اور پھر وہ علوم وفنونِ جدیدہ کے ماہر اور ایشیائیوں کو کیڑوں مکوڑوں سے بدتر سمجھنے والے لوگ اس کی باتوں کوشن بھی لیں گے اور مان بھی لیں گے اور پھر کس شخص کے ذہن میں آسکتا تھا کہ افریقہ کے باشندے جو ایشیا سے بالکل منقطع ہیں اس کی باتوں پر کان دھریں گے اور اس پر ایمان لائیں گے حالانکہ اُن کی زبان جاننے والا ہندستان بھر میں کوئی نہیں مل سکتا۔یہ سب روکیں ایک طرف تھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام ایک طرف تھا۔آخر وہی ہوا