دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 397

دعوت الامیر — Page 21

(ri) دعوة الامير اور ادب ہمارے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔اگر دنیا کی ساری عزتیں اور دنیا کے سارے تعلقات اور دنیا کے تمام آرام آپ کے لئے ہمیں چھوڑنے پڑیں تو یہ ہمارے لئے آسان ہے مگر آپ کی ذات کی ہتک ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ہم دوسرے نبیوں کی ہتک نہیں کرتے مگر آنحضرت کی قوت قدسیہ اور آپ کے علم اور آپ کے عرفان اور آپ کے تعلق باللہ کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کبھی بھی نہیں مان سکتے کہ آپ کی نسبت کسی اور نبی سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیار تھا اگر ہم ایسا کریں تو ہم سے زیادہ قابل سزا اور کوئی نہیں ہوگا، ہم آنکھیں رکھتے ہوئے اس بات کو کس طرح باور کرلیں کہ عرب کے لوگ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ اَوْ تَرَقَى فِی السَّمَاءِ وَلَنْ تُؤْمِنَ لِرَقِيَكَ حَتَّى تُنَزِلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ (بنی اسرائیل: ۹۴) یعنی ہم تجھے نہیں مانیں گے جب تک کہ تو آسمان پر نہ چڑھ جائے اور ہم تیرے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ تو کوئی کتاب بھی آسمان پر سے نہ لائے جسے ہم پڑھیں تو اللہ تعالیٰ آپ سے فرمائے کہ قُل سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًارَّسُوْلًا (بنی اسرائیل : ۹۴)۔ان سے کہہ دے کہ میرا رب ہر کمزوری سے پاک ہے میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں لیکن حضرت مسیح کو وہ آسمان پر اٹھا کر لے جائے۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال آئے تو انسانیت کو آسمان پر چڑھنے کے مخالف بتایا جائے لیکن جب مسیح کا سوال آئے تو بلاضرورت اُنکو آسمان پر لے جایا جائے۔کیا اس سے یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ مسیح علیہ السلام آدمی نہیں تھے بلکہ خدا تھے۔نَعُوذُ بِالله مِنْ ذَالِکَ۔یا پھر یہ نتیجہ نکلے گا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارے تھے مگر جب کہ یہ بات اَظْهَرُ مِنَ الشَّمْسِ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تو پھر کس طرح عقل باور کرسکتی ہے کہ آپ