دعوت الامیر — Page 287
(۲۸۷) دعوة الامير وسلم کو دجال نہیں کہتا ہے۔اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد تمام ہندوستان کی نظریں اس طرف لگ گئیں کہ دیکھئے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے پندرہ ماہ کا انتظار نہیں کروایا، اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے وقت سے ہی آتھم کی حالت بدلنی شروع ہوگئی اور اُس نے مسیحیت کی تائید میں کتب و رسالہ جات لکھنے کا کام بالکل بند کر دیا۔ایک مشہور مبلغ اور مصنف کا اپنے کام کو بالکل چھوڑ دینا اور خاموش ہو کر بیٹھ جانا معمولی بات نہ تھی بلکہ بین دلیل تھی اس امر کی کہ اُس کا دل محسوس کرنے لگ گیا ہے کہ اسلام سچا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے میں اس نے غلطی کی ہے مگر خاموشی پر ہی اس نے بس نہ کی بلکہ ایک روحانی ہاویہ میں گرایا گیا یعنی اس خیال کا اثر کہ اس نے اس مقابلے میں غلطی کی ہے اس قدر گہرا ہوتا چلا گیا کہ اسے عجیب عجیب قسم کے نظارے نظر آنے لگے جیسا کہ اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے بیان کیا کبھی تو اُسے سانپ نظر آتے جو اسے کاٹنے کو دوڑتے کبھی گتے اُسے کاٹنے کو دوڑتے اور کبھی نیزہ بردار لوگ اس کے خیال میں اس پر حملہ آور ہوتے۔حالانکہ نہ تو سانپ اور گتے اس طرح سدھائے جاسکتے ہیں کہ وہ خاص طور پر عبد اللہ آتھم کو جا کر کائیں اور نہ ہندوستان میں اسلحہ کی عام آزادی ہے کہ لوگ نیزے لیکر شہروں کی سڑکوں پر کھڑے رہیں تا کہ عبداللہ آتھم کو مار دیں۔در حقیقت یہ ایک ہاویہ تھی جو اس پشیمانی کی وجہ سے جو اس کے دل میں مسیحیت کی حمایت اور اسلام کے خلاف کھڑے ہونے کے متعلق پیدا ہو چکی تھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بڑی ہاویہ کے بدلے میں پیدا کی گئی تھی جس میں بصورت ضد پر قائم رہنے کے وہ ڈالا جاتا اگر فی الواقع اس کا ایمان مسیحیت پر قائم رہتا اور اسلام کو وہ اسی طرح جھوٹا سمجھتا جس طرح کہ پہلے جھوٹا سمجھتا تھا تو کس طرح ممکن تھا کہ وساوس اور خطرات کی اس جہنم میں پڑ جاتا اور جانوروں اور کیڑوں تک کو اپنا دشمن سمجھ لیتا