دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 397

دعوت الامیر — Page 267

۲۶۷ دعوة الامير ترتیب قرار دی جاسکتی ہے۔یعنی اگر مختلف مطالب کو مدنظر رکھا جائے تو ہر مطلب کے لحاظ سے اس کے اندر ترتیب پائی جاتی ہے یہ نہیں کہ اس کی ایک تفسیر کریں تو ترتیب قائم رہے اور دوسری تفسیر کریں تو ترتیب میں خلل آجائے بلکہ جس قدر معنے اس کے صحیح اور مطابق اصول تفسیر کے ہیں ان سب کی رعایت کو مد نظر رکھا گیا ہے اور کوئی سے معنے لے کر اس کی تفسیر شروع کر دو اس کی ترتیب میں فرق نہیں آئے گا اور یہ ایسی صفت ہے کہ کسی انسانی کلام میں نہیں پائی جاتی اور نہ پائی جاسکتی ہے۔دسواں اصولی علم آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں نیکیوں اور بدیوں کے مدارج بیان کئے گئے ہیں یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ کون کون سی نیکی سے کون کون سی نیکی کی تحریک ہوتی ہے اور کون کون سی بدی سے کون کون سی بدی پیدا ہوتی ہے۔اس علم کے ذریعے سے انسان اخلاق کی اصلاح میں عظیم الشان فائدہ حاصل کر سکتا ہے کیونکہ اس تدریجی علم کے ذریعے سے وہ بہت سی نیکیوں کو حاصل کر سکتا ہے جن کو وہ پہلے باوجود کوشش کے حاصل نہیں کر سکتا تھا اور بہت سی بدیوں کو چھوڑ سکتا ہے جن کو وہ باوجود بہت سی کوشش کے نہیں چھوڑ سکتا تھا، گویا قرآن کریم کا یہ عظیم الشان معجزہ آپ نے بتا دیا ہے کہ اس نے انسان کو نیکیوں اور بدیوں کے چشمے بتا دیئے ہیں جہاں پہنچ کر وہ اپنی پیاس کو بجھا سکتا ہے یا تباہ کرنے والے طوفان کو روک سکتا ہے۔گیارھواں اصولی علم آپ کو یہ بتایا گیا کہ سورۃ فاتحہ قرآن کریم کے سب مضامین کا خلاصہ ہے اور باقی قرآن کے لیے بمنزلہ متن ہے اور کل اصولی مسائل اس کے اندر بیان کئے گئے ہیں اور نہایت مفصل اور منحنیم تفاسیر آپ نے اس سورۃ کی شائع کیں اور نہایت پر لطف ایمان کو تازہ کرنے والے مضامین اس سے اخذ کر کے تقسیم