دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 397

دعوت الامیر — Page 254

(ror) ۲۵۴ دعوة الامير اور ایک گھوڑے کے کھڑے ہونے کی جگہ کی مقدار بھی آگے ہو سکتا ہے یا اُس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے یہی حال بے مثل کلام کا ہے کہ وہ اُن سے دوسرے کلاموں کی نسبت جن کے مقابلہ میں اُسے بے مثل ہونے کا دعوی ہے معمولی فضیلت بھی رکھ سکتا ہے اور بہت زیادہ فضیلت بھی رکھ سکتا ہے۔اب یہ امر کہ اس کا اور دوسرے کلاموں کا فرق تھوڑا ہے یا بہت اسی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے درمیان اور ان کلاموں کے درمیان جن سے وہ افضل ہونے کا مدعی ہے اور کلام آکر کھڑے ہوسکیں کہ وہ بھی بے مثل ہوں ،لیکن اس کے مقابلہ میں وہ بھی ادنی ہوں۔پس حضرت اقدس کی کتب نے دوسرے انسانوں کے کلاموں کے مقابلے میں اپنی بے مثلیت ثابت کر کے بتادیا ہے کہ قرآن کریم اپنی بے مثلیت میں دوسرے کلاموں سے بہت ہی بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ کلام جن کو قرآن کریم کے مقابلے پر کھڑا کیا جاتا تھا آپ کے کلام نے اُن کو پیچھے ڈال دیا مگر پھر بھی آپ کا کلام قرآن کریم کے ماتحت ہی رہا اور اس کا خادم ہی ثابت ہوا۔جس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم دوسرے کلاموں سے اسقدر آگے نکلا ہوا ہے کہ اس کے اور دوسرے کلاموں کے درمیان ایک وسیع فاصلہ ہے۔اس فصاحت کے علاوہ جو آپ کو عطا ہوئی ایک علم ظاہری آپ کو یہ عطا ہوا کہ آپ کو الہاما عربی زبان کے ائم الألسنَةِ ہونے کا علم دیا گیا۔یہ ایک عظیم الشان اور عجیب علم تھا کیونکہ یورپ کے لوگ ام الألسنة کے متعلق لمبی کوششوں کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ سنسکرت یا پہلوی زبان اُم الألْسِنَةِ ہے اور بعض لوگ ان دونوں زبانوں کو بھی اس زبان کی جو سب سے پہلی زبان تھی شاخ قرار دیتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ابتدائی زبان دنیا سے مٹ گئی ہے۔یہ تو یورپ کے لوگوں کا حال تھا۔عرب جن کی زبان عربی ہے وہ بھی