دعوت الامیر — Page 179
(۱۷۹) دعوة الامير فرماتے ہیں کہ تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَ سَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ الأَمِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي (ترمذی ابواب الایمان باب ما جاء فى من يموت وهو يشهدان لا اله الا الله ) یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی ، ان میں سے سوا ایک کے باقی سب آگ میں ڈالے جائیں گے۔لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے جو حق پر ہوں گے آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو اس طریق پر ہوں گے جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ یايُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ أَوْ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللهِ كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَهَذَا الْقُرْآنُ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقَالَ أَيْ تَكَلَتْكَ أَمُّكَ وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِ هِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوْا يَتَعَلَّقُوْنَا بِالْحَرْفِ مِمَّا جَاءَ ثُهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ أَلَا وَإِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (کنز العمال جلد ۱۰ صفحه ۶۸ ۱ روایت ۲۸۸۶۹ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء) یعنی اے لوگو ! علم حاصل کر وقبل اس کے کہ علم اٹھا لیا جائے۔دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا ؟ حالانکہ قرآن ہمارے پاس موجود ہے آپ نے فرمایا۔اسی طرح ہوگا۔تیری ماں تجھ پر ماتم کرے۔کیا دیکھتے نہیں کہ یہود ونصاری کے پاس کتا بیں موجود ہیں لیکن وہ اس تعلیم کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے جو ان کے انبیاء لائے تھے۔سنو! علم اس طرح جاتا ہے کہ عالم دنیا سے گزر جاتے ہیں اور آپ نے یہ فقرہ تین دفعہ بیان فرمایا۔