دعوت الامیر — Page 157
(102) دعوة الامير کے داہنے ہاتھ بیٹھ جانے کی تھی۔یہ ٹانگ بھی آپ نے انجیلی دلائل سے ہی توڑ دی کیونکہ آپ نے انجیل سے ہی ثابت کر دکھایا کہ مسیح علیہ السلام صلیب کے واقعہ کے بعد آسمان پر نہیں گئے بلکہ ایران، افغانستان اور ہندوستان کی طرف چلے گئے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے کہا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیٹروں کو اکٹھا کرنے آیا ہوں میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانے کی نہیں مجھے ان کا بھی لانا ضرور ہے (یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۶ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائیٹی لا ہورمطبوعہ ۱۹۰۶ء) اور تواریخ سے ثابت ہے کہ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے دس کو قید کر کے افغانستان کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔پس حضرت مسیح" کے اس قول کے مطابق ان کا افغانستان اور کشمیر کی طرف آنا ضروری تھا، تا کہ وہ ان گمشدہ بھیڑوں کو خدا کا کلام پہنچادیں۔اگر وہ ادھر نہ آتے تو اپنے اقرار کے مطابق ان کی بعثت لغو اور عبث ہو جاتی۔آپ نے انجیلی شہادت کے علاوہ تاریخی اور جغرافیائی شہادت سے بھی اس دعویٰ کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا ، چنانچہ پرانی مسیحی تاریخوں سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح کے حواری ہندوستان کی طرف آیا کرتے تھے اور یہ کہ تبت میں ایک کتاب بالکل انجیل کی تعلیم کے مشابہ موجود ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں عیسی کی زندگی کے حالات ہیں۔جس سے معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام ان علاقوں کی طرف ضرور آئے تھے۔اسی طرح آپ نے ثابت کیا کہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہے اور افغانستان اور کشمیر کے آثار اور شہروں کے نام اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان ممالک میں یہودی لا کر بسائے گئے تھے، چنانچہ کشمیر کے معنی جو کہ اصل میں کثیر ہے (جیسا کہ اصل باشندوں کی زبان سے معلوم ہوتا