دعوت الامیر — Page 141
۱۴۱ دعوة الامير احکام تو وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آ، یا اس میں سے قابل اعتراض حصہ بدل دے تو کہدے کہ میرا کیا حق ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کلام کو بدل دوں ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے، میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نافرمانی کروں تو اس بڑے دن کے ہیبت ناک عذاب میں مبتلا ہو جاؤں گا، تو کہہ دے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں یہ کلام تمہارے سامنے پیش نہ کرتا ، بقیہ حاشیہ : یہ ہے کہ وہ روحانیت سے بالکل کورا ہوگا اور اس کے گدھے سے مراد یہ ریل ہے جو مسیحی ممالک میں ایجاد ہوئی، اس کی رفتار بھی گدھے کے مشابہ ہے اور یہ آگ اور پانی سے چلتی ہے اور اس کے آگے اور پیچھے دھوئیں کے بادل ہوتے ہیں اور مسیحی پادری اس سے فائدہ اٹھا کر ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تو تاویلیں ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے ثابت ہے کہ دجال کے متعلق جو اخبار ہیں وہ تاویل طلب ہیں، چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے دیکھنے کیلئے گئے جس کے متعلق عجیب خبریں مشہور تھیں، اس سے جو باتیں آپ نے کیں ان سے معلوم ہوا کہ اس کو کچھ کچھ شیطانی القاء ہوتے ہیں، اس پر حضرت عمرؓ نے تلوار کھینچ لی اور قسم کھا کر کہا کہ یہی دجال ہے اور اسے قتل کرنا چاہا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر یہ دجال نہیں تو اس کا مارنا درست نہیں اور اگر یہ دجال ہے تو اس کا مارنا مسیح کے لئے مقدر ہے تو اسے مار نہیں سکتا۔( مشکوۃ باب قصہ ابن صیاد الفصل الاول صفحہ ۴۷۸ مطبوعه قدیمی کتب خانه آرام باغ کراچی د ۱۳۶۸ ھ تر مذی ابواب الفتن باب ما جاء فی ذکر ابن صیاد ) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے متعلق جس قدر اخبار ہیں وہ تعبیر طلب ہیں کیونکہ جب حضرت عمر نے ابن صیاد کو دجال قرار دیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں کیا، حالانکہ آپ نے خود دجال کی یہ علامتیں بتائی تھیں کہ اس کے ماتھے پر کا فرلکھا ہوا ہوگا۔(ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء في ان الدجال لا يدخل المدينة)