دعوت الامیر — Page 98
(9N) دعوة الامير خاں صاحب اپنی کتاب حجم الکرامہ میں بحوالہ رسالہ حشر یہ لکھتے ہیں :۔چوں جملہ علامات حاصل شود قوم نصاری غلبه کننده بر ملک ہائے بسیار متصرف شوند ( حجج الكرامة في آثار القيامة صفحه ۳۴۴ مطبوعه بهوپال ۱۲۰۹ ) پس علاوہ دوسری علامات سے مل کر زمانہ مسیح موعود کی طرف اشارہ کرنے کے یہ خبر اپنی ذات میں بھی بہت کچھ راہنمائی کا موجب ہے۔مسیحیت کی اس ترقی کے مقابل اسلام کی حالت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں بیان فرماتے ہیں کہ بَدَءَ الْإِسْلَامُ غَرِيْبًا وَ سَيَعُوْدُ غَرِيْبًا فَطُوبِي لِلْغُرَبَاءِ (ابن ماجه کتاب الفتن باب بدء الاسلام غریباً اسلام اس زمانے میں بہت ہی کمزور ہوگا بلکہ دجال والی حدیث میں تو فرماتے ہیں کہ بہت سے مسلمان دجال کے پیرو ہو جائیں گے (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء في فتنة الدجال ) چنانچہ اب ایسی ہی حالت ہے مسلمان اس شان وشوکت کے بعد جس نے ان کو دنیا کا واحد ما لک بنارکھا تھا آج ایک بیکس اور یتیم بچے کی طرح ہیں کہ بلا بعض مسیحی طاقتوں کی مدد کے ان کو اپنا وجود قائم رکھنا تک مشکل ہے۔لاکھوں مسلمان اس وقت مسیحی ہو گئے ہیں اور برابر مسیحی ہور ہے ہیں۔اندرونی مذہبی حالت : دنیا کے مذاہب کی طاقت کے علاوہ مسیح موعود کے زمانے میں جو ان کی باطنی حالت ہونے والی تھی اسے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے چنانچہ اس وقت کے مسلمانوں کی حالت کا نقشہ آپ نے اس طرح کھینچا ہے۔اس وقت لوگ قدر کے منکر ہو جائیں گے چنانچہ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ