دعوت الی اللہ — Page 21
۲۳ کرتا ہے اور کامل فرمانبردار ہو جاتا ہے۔اسی طرح ایک دوسرے سے مقام پر فرمایا :- يهَا الرَّسُولُ بَلَغَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَاءُ - ( المائده : ۶۸) ترجمہ : یعنی اسے رسول ا جو پیغام تیری طرف نازل کیا گیا ہے تو اسے دوسر سے لوگوں تک پہنچا۔اگر تو نے ایسا نہ کیا تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ تو نے اس کی رسالت کا حق ہی ادا نہ کیا۔اس آیت کریمہ میں کان لم تفعل کے الفاظ استعمال کرنے میں حکمت یہی ہے کہ پیغام اہلی کو عملی نمونہ کے ذریعہ بھی لوگوں تک پہنچانا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ کو خود خدا تعالیٰ نے آپ کی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔اور اس کی تائید کوہ صفا کے مقام پر سب قریش مکہ نے یک زبان ہو کر کی۔حضرت ابو بکر صدیق رض جو آپ کے بچپن کے ساتھی تھے وہ بغیر کسی دلیل کے مطالبہ کے آپ پر ایمان لے آئے۔اسی طرح ایک اور موقعہ پر جب رؤسا مگر ا کٹھے ہوئے اور یہ فیصلہ کیا کہ مگر میں جو لوگ حج یا دوسر سے مواقع پر آتے ہیں اُن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہکہ بدنام کیا جائے کہ معوذ باللہ آنحضرت لوگوں کو جھوٹی باتیں کہہ کہ فریب دیتے ہیں تو اس پر نذر بن حارث اُٹھا اور اس نے سب حاضرین کو مخاطب کر کے کہا کہ :۔محمد تم میں پل بڑھ کر جوان ہوا۔تم اس کو بچپن سے جانتے ہو