دعوت الی اللہ — Page 15
16 فرمایا ہے کہ کسی قوم کو دعوت دیتے وقت شریعت کے تمام احکام کا بوجھ یکبارگی اس کی گردن پر نہ ڈالا جائے۔بلکہ رفتہ رفتہ اس کے سامنے پیش کئے جائیں۔پہلے توحید و رسالت اور دیگر عقائد کو پیش کرنا چاہیئے۔اس کے بعد عبادات کو۔عبادات میں بھی اہم تر کے اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیئے۔آپؐ نے حضرت معاذ بن جبل کو یمین کی طرف بھیجتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی کہ " تم یہودیوں اور عیسائیوں کی ایک قوم کے پاس جاؤ گے تو ان کو پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کے رسول ہیں۔جب وہ یہ مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔اور جب وہ یہ کبھی مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے۔یہ صدقہ ان کے دولتمندوں سے نے کہ ان کے غریبوں کو دلایا جائے؟ (بخاری کتاب الزکواة ) حکمت عملی اس امر کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ مخاطب سے پہلے اُن امور کو تسلیم کہ دالیا جائے۔جن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔اس سلسلہ میں ہمیں قرآن کریم سے بھی راہنمائی ملتی ہے۔قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بيْنَكُمْ الأَنَعبُدَ إِلَّا اللهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا۔د ال عمران : ۶۵) ترجمہ :۔یعنی۔اسے رسول ! تو اہل کتاب کو پہلے ان باتوں پر اتفاق رائے