دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 3

جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے یا کی گئی۔لیکن اس کا علاج بھی خدا تعالیٰ نے انہی لوگوں کے ذریعہ سے کر دیا۔ان کے سیاستدان، ان کا پڑھا لکھا طبقہ، بلکہ ایسے بھی جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں جماعت کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں۔یہ جرمن لوگوں کی شرافت بھی ہے۔بلکہ بعض جگہوں پر اسلامی قانون وقواعد اور سکولوں کے سلیبس کے لئے جماعت کے مشوروں کو اہمیت بھی دی جاتی ہے اور ان باتوں کا اظہار جہاں ہم مساجد بناتے ہیں وہاں آنے والے مقامی سیاستدانوں اور مقامی لوگوں کے اظہار خیال میں بھی ہوتا ہے۔اور یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلائی جانے والی ہوا ہے۔یہ جو جماعت کا تعارف بڑھا ہے اس کو بڑھانے میں ہمارے مخالفوں نے مزید کردار ادا کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ کسی کے یہ کہنے پر کہ ہمارا علاقہ بڑا پر امن ہے وہاں کوئی مخالفت نہیں، فرمایا تھا کہ اصل پیغام تو وہیں پھیلتا ہے جہاں مخالفت ہو۔پس یورپ کے ممالک میں مختلف ذریعوں سے جماعت کی مخالفت میں پہلا ملک جرمنی ہے۔ایک طرف سب سے زیادہ مقامی لوگ اس ملک میں ہماری حمایت کرنے والے ہیں تو دوسری طرف مخالفت کرنے والا طبقہ بھی، چاہے وہ تھوڑا ہی ہو ، سرگرم عمل ہے۔پس اس لحاظ سے جرمنی کے لوگوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اسلام کی حقیقت کو پہچاننے والی ان کی اکثریت ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔پس ہم نے یہاں کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کرنے یا صرف اپنے مفاد کے لئے ان کو استعمال نہیں کرنا بلکہ ان کا شکریہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو اسلام کی خوبیوں کے بارے میں مستقل مزاجی سے بتاتے رہیں۔بیشک دلوں کو کھولنا اللہ تعالیٰ کا کام 3