دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 20

ہیں بلکہ لوگ اسے کہیں گے کہ آپ امام مہدی ہے اور اس کے نہ چاہتے ہوئے اس کی بیعت کرلیں گے۔کہتے ہیں اس بات کے جواب میں ہمارے درمیان گفتگو کا ایک لمبا سلسلہ چلتا رہا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے اعلیٰ و ارفع مفہوم کی وضاحت کے ساتھ امام مہدی کی نبوت کے موضوع پر بھی بڑی سیر حاصل بحث ہوئی جس کے آخر پر میرے اس دوست نے اطمینان حاصل ہونے کے بعد بفضلہ تعالیٰ بیعت کر لی۔تو یہ نتیجہ صبر مستقل مزاجی، حکمت کے ذریعہ سے ہی نکلتا ہے اور ایسے نتیجے بے شمار نکل رہے ہیں جب لوگ تبلیغ کرتے ہیں۔ایسی بیشمار مثالیں جماعت میں ملتی ہیں کہ جب کسی نے ایک درد کے ساتھ دعوت الی اللہ کی کوشش کی تو اسے پھل بھی مل گئے۔پھر صبر ، دعا اور برداشت کی ایک اور مثال بھی پیش کر دیتا ہوں۔ایک عرب ہے۔اب ایک افریقہ ہے وہ بھی مغربی افریقہ جہاں عیسائیت بہت زیادہ ہے۔لائبیریا سے ہمارے مبلغ نے لکھا۔کہتے ہیں ہم تبلیغی ٹیم کے ساتھ ایک گاؤں مدینہ گئے۔پروگرام کے مطابق سب لوگ اکٹھے ہوئے۔پہلے جماعت کا پیغام دیا پھر بڑے اچھے ماحول میں سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔لگتا تھا کہ ہر ایک مطمئن تھا کہ اچانک دو نیم تعلیم یافتہ آدمی جو اپنے آپ کو مولوی سمجھتے ہیں انہوں نے اس رنگ میں مجلس میں دخل اندازی شروع کر دی کہ سارا ماحول خراب ہو گیا۔بڑھ بڑھ کے باتیں کرنا، ماحول کو بگاڑنا، شور مچانا اور ان کا مقصد بھی وقتی طور پر تبلیغ کے اثر کو زائل کرنا تھا۔تو ہمارے مبلغ نے ایک خادم احمدیت دیدات صاحب کو کہا کہ آپ ان کے سوالوں کے جواب جاری رکھیں اور کہتے ہیں میں خود یہ سوچ کر دعا کے لئے علیحدہ ہو گیا کہ ظاہری طور پر جو کوشش ہوسکتی تھی وہ ہم نے کی 20 20