دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 11

عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور یہ پر دے اس وقت اٹھیں گے جب زمانے کے امام کو مانیں گے۔پس آج یہ ہمارا کام ہے کہ اس ہتھیار سے دنیا کو گھائل کرتے چلے جائیں۔ان کے دل جیتتے چلے جائیں۔مختلف مواقع پر اور یہاں کل جرمن اور غیر مسلم مہمانوں کے ساتھ جو سیشن تھا اس میں بھی میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم سے جو جہاد اور امن کے بارے میں اسلامی تعلیم ہے وہ پیش کی تھی۔اس پر بعض مہمانوں نے اپنے تاثرات بھی دیئے کہ یہ باتیں سن کر اسلام کے بارے میں ہمارے خیالات بالکل بدل گئے ہیں اور اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر اکثر مہمانوں نے یہ تاثرات دیئے ہیں۔اور تاثرات دیتے ہیں کہ ہم جماعت کو جانتے ہیں اور اس وجہ سے جن احمدیوں سے ہمارا واسطہ ہے انہوں نے ہمیں اسلام کی خوبصورت تعلیم بتائی ہے۔پس یہ تعلیم بتانا ہم میں سے ہر ایک کا کام ہے اور یہ تعلیم وہی ہے جو قرآن کریم نے ہمیں دی ہے۔اور پھر تبلیغ کے لئے حکمت کے لفظ میں یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ ایسے طریق سے بات کی جائے جو دوسرا سمجھ سکے۔ایک کم پڑھے لکھے انسان کے سامنے اگر اپنی علمیت بگھاری جائے تو اسے کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ایسی بات ہو جو دوسرے کی غلط نہی کو دور کرے اور جہالت کو ختم کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ لوگوں سے ان کے فہم اور ادراک کے مطابق بات کیا کرو۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری از امام بدرالدین عینی " جزء 3 صفحه 407 کتاب الحیض باب ترک الحائض الصوم شرح حدیث نمبر 304 مطبوعہ بیروت 2003ء) پس یہ بہت اہم بات ہے۔پھر فرمایا کہ تبلیغ کے لئے موعظة الحسنۃ کو بھی سامنے رکھو۔یعنی ایسی بات جو دلوں کو 11