دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 10

دیوار میں پھٹیں اور اس میں سے فرشتے آگئے اور اس کو قتل کر کے چلے گئے اور پھر آگے جو کہانی بنی تھی پھر پتا نہیں کیا بنی تھی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 12 صفحہ 451-450) اسی طرح مذہب کے بارے میں غلط باتیں پھیلتی ہیں اور بعض نام نہاد بزرگوں کے بارے میں کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔تو یہ خلاصہ میں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔بہر حال کسی کو قائل کرنے کے لئے بھی واقعاتی سچائی کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے۔پھر حکمت کا مطلب نبوت کا بھی ہے۔یعنی تبلیغ اس ذریعہ سے کرو جو نبوت کا ذریعہ ہے اور مسلمانوں کے لئے ، ایک مسلمان کے لئے ، ہمارے لئے یہ ذریعہ قرآن کریم ہے۔پس قرآنی دلائل سے دنیا کے دلوں کو فتح کرنے کی کوشش ہونی چاہئے نہ کہ اپنی پسند کے دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کی جائے۔قرآنی دلائل سے کوشش کریں گے تو پھر ان میں وزن بھی ہوگا۔اگر اپنی بات کو مضبوط کرنے کی نیت سے غیر ضروری ڈھکونسلوں سے اور اپنے دلائل سے کام لیا جائے تو اس کا الٹا اثر ہوتا ہے۔پس یہی ایک ہتھیار ہے جس کے استعمال سے ہماری فتح ہے کہ ہم قرآن کریم کو ہمیشہ ہاتھ میں رکھیں اور جس کے استعمال سے ہم ہر ایک کا منہ بند کر سکتے ہیں اور جہاد کے لئے بھی یہی ہتھیار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے استعمال کرنے کا ارشاد فر مایا تھا۔حضرت مصلح موعود نے بھی اس پر لکھا ہے کہ کاش کہ آج کے مسلمان یہ سمجھ سکیں۔اور آجکل اس زمانے میں جو ہم مسلمانوں کی حالت دیکھتے ہیں تو اور زیادہ شدت پسند ہو چکے ہیں اس بات کو سمجھیں اور تلوار سے دنیا فتح کرنے کی باتیں کرنے کی بجائے ، بندوق کے زور پر شریعت نافذ کرنے کی بجائے دلوں کو اس خوبصورت تعلیم سے جیتنے کی کوشش کریں۔لیکن اس بارے میں ان کی 10