دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 23
23 جا تا ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ کلام نبوت میں بھی سواری ( مراد ) ہے جو عبس ماء (Steam) سے چلے گی اور اپنے آگے دھوئیں کا ایک پہاڑ رکھے گی اور سواری اور بار برداری کے لحاظ سے حمار کی طرح ہوگی اور چلتے وقت ایک آواز کرے گی وَغَيْرُ ذُلِكَ۔دوم - إذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ( التكوير : 1 ) یعنی کتابوں اور نوشتوں کا بہ کثرت شائع ہونا آجکل بباعث چھاپہ کی کلوں کے جس قدر اس زمانہ میں کثرت اشاعت کتابوں کی ہوئی ہے اسکے بیان کی ضرورت نہیں۔سوم - إِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ (التکویر:۸) نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہو جانا کہ موجودہ زمانے سے بڑھ کر متصور نہیں۔چہارم - تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ (التزعت : ۲) متواتر اور غیر معمولی زلزلوں کا آنا یہاں تک کہ زمین کانپنے والی بن جائے سو یہ زمانہ اس کے لئے بھی خصوصیت سے مشہور ہے۔پنجم - وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا ( بى اسرائیل : ۵۹) کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے پہلے ہلاک نہیں کریں گے یا کسی حد تک اس پر عذاب وارد نہیں کریں گے چنانچہ اسی زمانہ میں طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آئے ہیں کہ اس مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔پھر اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ ہر صدی میں اس کے ماننے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو الہام الہی سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں اور خارق عادت نشانات سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک قادر و توانا ، مدبر بالا رادہ ہستی