دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 22
22 سے ثابت کر دیتی ہے چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُقَبَّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (ابراہیم :۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کو اس دنیا اور اگلی دنیا میں پکی باتیں سنا سنا کر مضبوط کرتا رہتا ہے پس جب کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہم کلام ہوتا رہتا ہے تو پھر اس کا انکار کیونکر درست ہوسکتا ہے اور نہ صرف انبیاء اور رسولوں کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے بلکہ اولیاء سے بھی باتیں کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے کسی غریب بندہ پر بھی رحم کر کے اس کی تشقی کیلئے کلام کرتا ہے چنانچہ اس عاجز سے بھی اس نے کلام کیا اور اپنے وجود کو دلائل سے ثابت کیا پھر یہی نہیں بعض دفعہ نہایت گندے اور بد باطن آدمیوں سے بھی ان پر حجت قائم کرنے کیلئے بول لیتا ہے چنانچہ بعض دفعہ چوہڑوں چماروں کوچنیوں تک کو خوا ہیں اور الہام ہو جاتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ وہ کسی زبر دست ہستی کی طرف سے ہیں یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان میں غیب کی خبریں ہوتی ہیں جو اپنے وقت پر پوری ہو کر بتا دیتی ہیں کہ یہ انسانی دماغ کا کام نہ تھا اور نہ کسی بدہضمی کا نتیجہ تھا اور بعض دفعہ سینکڑوں سال آگے کی خبریں بتائی جاتی ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہدے کہ موجودہ واقعات خواب میں سامنے آگئے اور وہ اتفاقاً پورے بھی ہو گئے چنانچہ توریت اور قرآن شریف میں مسیحیوں کی ان ترقیوں کا جنکو دیکھ کر اب دنیا حیران ہے پہلے ذکر موجود تھا اور پھر صریح لفظوں میں تفصیل کے ساتھ۔بلکہ ان واقعات کا بھی ذکر ہے جو آئندہ پیش آنے والے ہیں مثلاً إِذَا الْعِشَارُ عطلت (التکویر : ۵) یعنی ایک وقت آتا ہے کہ اونٹیاں بیکار ہو جائیں گی اور حدیث مسلم میں اس کی تفسیر یہ ہے وَلَيُتْرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا یعنی اونٹنیوں سے کام نہ لیا جائے گا چنانچہ اس زمانے میں ریل کے اجراء سے یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ریل کے متعلق نبی کریم انی پی ایم کے کلام میں ایسے ایسے اشارے پائے جاتے ہیں جن سے ریل کا نقشہ آنکھوں میں پھر