دس دلائل ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 30

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 11

11 چندمل کر ایک بات کی گواہی دیتے ہیں تو ماننا ہی پڑتا ہے جن کے احوال سے ہم بالکل ناواقف ہوتے ہیں وہ اخباروں میں اپنی تحقیقات شائع کرتے ہیں تو ہم تسلیم کر لیں گے مگر نہیں مانتے تو ان راستبازوں کا کلام نہیں مانتے۔دنیا کہتی ہے کہ لندن ایک شہر ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں جغرافیہ والے لکھتے ہیں کہ امریکہ ایک بڑاعظم ہے اور ہم اسکی تصدیق کرتے ہیں سیاح کہتے ہیں کہ سائبیریا ایک وسیع اور غیر آباد علاقہ ہے ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے لوگوں کی گواہی اس پر ہوگئی ہے۔حالانکہ ہم ان گواہوں کے حالات سے واقف نہیں کہ وہ جھوٹے ہیں یا بچے مگر اللہ تعالیٰ کے وجود پر عینی گواہی دینے والے وہ لوگ ہیں کہ جن کی سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہے انہوں نے اپنے مال و جان وطن عزت و آبر وکوتباہ کر کے راستی کو دنیا میں قائم کیا پھر ان سیاحوں اور جغرافیہ والوں کی بات کو ماننا اور ان راستبازوں کی بات کو نہ ماننا کہاں کی راستبازی ہے۔اگر لندن کا وجود چندلوگوں سے سن کر ثابت ہوسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وجود ہزاروں راستبازوں کی گواہی پر کیوں ثابت نہیں ہوسکتا۔غرضیکہ ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی رد کے قابل نہیں ہو سکتی تعجب ہے کہ جو اس کو چہ میں پڑے ہیں وہ تو سب با تفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانو کہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دو برابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز کو دیکھا اسکی گواہی کو اسکی گواہی پر جو کہتا ہے میں نے اس چیز کو نہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہر حال حجت ہوگی۔