دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 7
7 حالانکہ انجام کار کی بہتری ہی اصل بہتری اور دیر پا ہے۔اور یہ بات صرف قرآن شریف ہی پیش نہیں کرتا بلکہ سب پہلی کتابوں میں یہ دعویٰ موجود ہے چنانچہ ابراہیم اور موسیٰ نے جو تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اسمیں بھی یہ تعلیم موجود ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مخالفین قرآن پر یہ حجت پیش کی ہے کہ اپنی نفسانی خواہشوں سے بچنے والے خدا کی ذات کا اقرار کر نیوالے اور پھر اس کا سچا فرمانبردار بننے والے ہمیشہ کامیاب اور مظفر ہوتے ہیں۔اور اس تعلیم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ یہ بات پہلے مذاہب میں مشترک ہے چنانچہ اسوقت کے بڑے مذاہب مسیحی یہودی اور کفار مکہ پر حجت کیلئے حضرت ابراہیم اور موسی کی مثال دیتا ہے کہ ان کو تو تم مانتے ہو انہوں نے بھی یہ تعلیم دی ہے پس قرآن شریف نے ہستی باری تعالیٰ کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ بھی دیا ہے کہ کل مذاہب اس پر متفق ہیں اور سب اقوام کا یہ مشترک مسئلہ ہے چنانچہ جس قدر اس دلیل پر غور کیا جائے نہایت صاف اور سچی معلوم ہوتی ہے۔حقیقت میں کل مذاہب دنیا اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی ہستی ہے جس نے کل جہان کو پیدا کیا۔مختلف ممالک اور احوال کے تغیر کی وجہ سے خیالات اور عقائد میں بھی فرق پڑتا ہے لیکن باوجود اس کے جس قدر تاریخی مذاہب ہیں سب اللہ تعالیٰ کے وجود پر متفق اللسان ہیں گو اس کی صفات کے متعلق ان میں اختلاف ہو موجودہ مذاہب یعنی اسلام مسیحیت، یہودیت ، بدھ ازم سکھ ازم ، ہندو ازم اور زرتشتی سب کے سب ایک خدا ایلو ہیم، پرم ایشور، پرم آتما ، ست گرو، یا یزدان کے قائل ہی ہیں مگر جو مذاہب دنیا کے پردہ سے مٹ چکے ہیں ان کے متعلق بھی آثار قدیمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب ایک خدا کے قائل اور معتقد تھے۔خواہ وہ مذاہب امریکہ کے جدا شدہ ملک میں پیدا ہوئے ہوں یا افریقہ کے جنگلوں میں خواہ رو ما میں خواہ انگلستان میں خواہ جاو او سماٹرا میں خواہ جاپان اور چین میں خواہ سائبیریا منچوریا میں۔یہ اتفاق