دس دلائل ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 30

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 20

20 غلام ملکوں کے بادشاہ ہو گئے۔ہمارے آقا بھی دنیا میں سب سے زیادہ اس پاک ذات کے نام کے پھیلانے والے تھے یہاں تک کہ ایک یورپ کا مصنف کہتا ہے کہ ان کو خدا کا جنون تھا۔(نعوذ باللہ ) ہر وقت خدا خدا ہی کہتے رہتے تھے۔ان کی سات قوموں نے مخالفت کی اپنے پرائے سب دشمن ہو گئے مگر کیا پھر آپ کے ہاتھ پر دنیا کے خزانے فتح نہیں ہوئے؟ اگر خدا نہیں تو یہ تائید کس نے کی؟ اگر یہ سب کچھ اتفاق تھا تو کوئی مبعوث تو ایسا ہوتا جو خدا کی خدائی ثابت کرنے آتا اور دنیا اسے ذلیل کر دیتی مگر جو کوئی خدا کے نام کو بلند کرنے والا اٹھا وہ معزز وممتاز ہی ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ مَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغُلِبُونَ (المائده: ۵۷) اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنوں سے دوستی کرتا ہے پس یا درکھنا چاہئے کہ یہی لوگ خدا کے ماننے والے ہی غالب رہتے ہیں۔دلیل هشتم آٹھویں دلیل جو قرآن شریف سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں ملتی ہے یہ ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے جب کوئی انسان گھبرا کر اس کے حضور میں دعا کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرتا ہے۔اور یہ بات کسی خاص زمانہ کے متعلق نہیں بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نظارے موجود ہوتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ( البقرہ: ۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میری نسبت سوال کریں تو انہیں کہہ دو کہ میں ہوں اور پھر قریب ہوں پکارنے والے کی دعا کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے پس