دس دلائل ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 30

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 19

19 اللهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأولى ( الزعت: ۲۶،۲۵) یعنی جب حضرت موسی نے اسے اطاعت الہی کی نسبت کہا تو اس نے تکبر سے جواب دیا کہ خدا کیسا ، خدا تو میں ہوں پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس جہاں میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی ذلیل کر دیا چنانچہ فرعون کا واقعہ ایک بین دلیل ہے کہ کس طرح خدا کے منکر ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں علاوہ ازیں دنیا میں کبھی کوئی سلطنت دہریوں نے قائم نہیں کی بلکہ دنیا کے فاتح اور ملکوں کے مصلح اور تاریخ کے بنانے والے وہی لوگ ہیں کہ جو خدا کے قائل ہیں کیا یہ انکی ذلت و نکبت اور قوم کی صورت میں کبھی دنیا کے سامنے نہ آنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔ساتویں دلیل اللہ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ہے کہ اس کی ذات کے ماننے والے اور اس پر ایمان رکھنے والے اور اس پر حقیقی ایمان رکھنے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور باوجود لوگوں کی مخالفت کے ان پر کوئی مصیبت نہیں آتی خدا تعالیٰ کی ہستی کے منوانے والے ہر ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور جس قدر ان کی مخالفت ہوئی ہے اتنی اور کسی کی نہیں لیکن پھر دنیا اس کے خلاف کیا کرسکی۔رامچندرکو بن باس دینے والوں نے کیا سکھ پایا؟ اور راون نے کونسی عشرت حاصل کر لی؟ کیا رامچندر کا نام ہزاروں سال کیلئے زندہ نہیں ہو گیا اور کیا راون کا نام ہمیشہ کیلئے بدنام نہیں ہو !؟ اور کرشن کی بات کارڈ کر کے کورو نے کیا فائدہ حاصل کیا۔کیا وہ کرو چھتر کے میدان میں تباہ نہ ہوئے؟ فرعون بادشاہ جو بنی اسرائیل سے اینٹیں پتھو اتا تھا اس نے موسی جیسے بے کس انسان کی مخالفت کی مگر کیا موسیٰ کا کچھ بگاڑ سکا؟ وہ غرق ہو گیا اور موسی بادشاہ ہو گئے۔حضرت مسیح کی دنیا نے جو کچھ مخالفت کی وہ بھی ظاہر ہے اور انکی ترقی بھی جو کچھ ہوئی پوشیدہ نہیں ان کے دشمن تو تباہ ہوئے اور ان کے