دس دلائل ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 30

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 14

14 ہے اور ضرور ہے کہ ہر کام کے کرنے والا بھی کوئی ہو پس اس تمام کائنات پر اگر غور کرو گے تو ضرور تمہاری رہنمائی اس طرف ہو گی کہ سب اشیاء آخر جا کر ذات باری پر ختم ہوتی ہیں اور وہی انتہاء ہے تمام اشیاء کی اور اسی کے اشارے سے یہ سب کچھ ہورہا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی حالت کی طرف متوجہ کر کے فرمایا ہے کہ تمہاری پیدائش تو ایک نطفہ سے ہے اور تم تو جوں جوں پیچھے جاتے ہو اور حقیر ہوتے جاتے ہو پھر تم کیونکر اپنے خالق ہو سکتے ہو جب خالق کے بغیر کوئی مخلوق ہو نہیں سکتی اور انسان اپنا آپ خالق نہیں ہے کیونکہ اسکی حالت پر جس قدر غور کریں وہ نہایت چھوٹی اور ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اس حالت کو پہنچتا ہے اور جب وہ موجودہ حالت میں خالق نہیں تو اس کمزور حالت میں کیونکر خالق ہوسکتا تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق کوئی اور ہے جس کی طاقتیں غیر محدود اور قدرتیں لا انتہاء ہیں۔غرضیکہ جس قدر انسان کی درجہ بدرجہ ترقی پر غور کرتے جائیں اس کے اسباب باریک سے باریک تر ہوتے جاتے ہیں اور آخر ایک جگہ جا کر تمام دنیاوی علوم کہہ دیتے ہیں کہ یہاں اب ہمارا دخل نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ کیوں ہو گیا اور وہی مقام ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہوتا ہے اور ایک سائنس دان کو آخر ماننا پڑتا ہے کہ إلی رَبَّكَ الْمُنعَلی یعنی ہر ایک چیز کی انتہاء ہوتی ہے اور آخر ایک ایسی ہستی پر ہوتی ہے کہ جس کو وہ اپنی عقل کے دائرہ میں نہیں لا سکتے اور وہی خدا ہے یہ ایک موٹی دلیل ہے کہ جسے ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔کہتے ہیں کہ کسی نے ایک بدوی سے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے اس نے جواب دیا کہ جنگل میں ایک اونٹ کی مینگنی پڑی ہوئی ہوتو میں دیکھ کر بتا دیتا ہوں کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے پھر اتنی بڑی مخلوقات کو دیکھ کر میں معلوم نہیں کر سکتا کہ اسکا کوئی خالق ہے واقعی یہ جواب ایک سچا اور فطرت کے مطابق جواب ہے اور اس مخلوقات کی پیدائش کی الْبَعْرَة تَدلُّ عَلَى الْبَعِيرِ وَأَثَرُ الْقَدَمِ عَلَى السَّفِيرِ فَالسَّمَاءُ ذَاتُ الْبُرُوْجِ وَالْأَرْضُ ذَاتُ فِجَاجِ آمَا تَدُلُّ عَلَى قَدِيْرٍ