دورۂ قادیان 1991ء — Page 26
26 ہوتی۔بڑے شوق سے وہ سنا تا کہ آج دلی تمنا پوری ہوئی کئی دنوں سے موقع تلاش کر رہا تھا آج حضور سے ملاقات کا شرف حاصل ہو گیا اور بات کرنے کا وقع مل گیا۔الفاظ میں اُن تأثرات کو بیان کرنا ممکن ہی نہیں حتی کہ غیر مسلموں اور ان کے بچوں کا بھی راستوں میں یہی اشتیاق دیکھا گیا۔ایک روز بعد نماز فجر حضور بہشتی مقبرہ تشریف لے جارہے تھے۔مہمان خانے کے پاس دو غیر مسلم معمر افراد گزر رہے تھے۔ایک نے بڑھ کر حضور سے مصافحہ کیا۔حضور نے اس کے احوال دریافت فرمائے۔اُسکی تو باچھیں کھل گئیں۔وہ بار بار یہ کہتا جاتا تھا کہ بڑے دنوں سے موقع کی تلاش میں تھا آج میرے بھاگ کھل گئے۔آج میرے بھاگ کھل گئے۔“ مکرم منوہر لال شر ما صاحب پرنسپل خالصہ سینئر سیکنڈری سکول قادیان نے اپنے خط محررہ 19 / مارچ 1992ء میں حضور کی خدمت میں اپنی عقیدت کا اظہار اور دعا کی درخواست کی۔انہوں نے لکھا :۔نمسکار و تسلیم و آداب کے بعد عرض ہے کہ بندہ خالصہ ہائر سیکنڈری سکول قادیان کا پرنسپل ہے۔آپ یہاں تشریف لائے تو آپ سے ملاقات حاصل کر کے بیحد خوشی ہوئی۔آپ ایک بابرکت روحانی وجود ہیں ہم آپ کی دعاؤں کے متمنی ہیں۔خاکسار کو قبل ازیں Teacher's State Award بھی حکومت پنجاب کی طرف سے مل چکا ہے۔اب خاکسار کا کیس National Award کے لئے گیا ہوا ہے جو کہ خاکسار کے نزدیک آپ کی دعاؤں اور آشیرواد کے بغیر ممکن نہیں۔لہذا میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ خاکسار کو اپنی خاص دعاؤں میں یا درکھیں۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں آپ کے ساتھ تشریف لائے مہمانوں کی خدمت کا جو موقع ملا وہ ہماری خوش نصیبی تھی کہ اچھے انسانوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔