دورۂ قادیان 1991ء — Page 220
220۔روٹی پلانٹ مشینیں نصب ہوں اور ضرورت کے مطابق سالن کا انتظام ہو۔ہیں۔یو۔پی کے نانبائی جن کے بارہ میں رپورٹ میں ذکر ہے کہ وہ تندوروں وغیرہ کا خود انتظام کریں گے۔یہ جائزہ بھی لے لیا جائے کہ اگر یو۔پی سے کافی تعداد میں نانبائی مل سکتے ہیں تو پھر کیا روٹی پلانٹ کے لگائے جانے کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔12 لنگر خانہ کی Site کا فیصلہ کر کے وہاں ضروری تعمیر شروع ہو جانی چاہیے اگر رہائش گا ہیں جلسہ گاہ سے دور ہوں گی تو ممکن ہے کہ کھانا وہاں لیجانے کے لیے دیکنوں یا ٹریکٹر ٹرالیوں کی ضرورت ہو۔اس پہلو کو بھی دیکھ لیا جائے۔13 - دار الانوار میں رہائش کا انتظام ہو سکے تو ٹھیک رہے گا۔14۔باہر سے آنے والے مہمانوں کی لئے Toilets کا مناسب انتظام کرنا ہوگا۔15۔بعض یورپین ممالک اور امریکہ، کینیڈا، انڈونیشیا، سنگا پور ، جاپان وغیرہ کو یہ تحریک کی گئی ہے کہ وہ قادیان میں گیسٹ ہاؤس بنوائیں۔ان کے لئے فوری طور پر site کا فیصلہ ہونا ضروری ہے۔اس کا پلان بنا کر یہاں بھیجیں۔یہ گیسٹ ہاؤس دو منزلہ ہونگے۔نیچے اجتماعی رہائش کے لئے کمرے ہوں گے، جبکہ اوپر کے حصہ میں فلیٹ ٹائپ کمرے ہوں گے۔جہاں فیملیاں ٹھہر سکیں گی۔کچن بھی شامل ہوں گے۔اسبارہ میں چوہدری رشید آرکیٹیکٹ صاحب نقشہ تیار کر کے بھجوائیں گے۔فرمایا ہے کہ ممکن ہے بعض ممالک سے رقم پہنچنے میں دیر لگے اس لئے انتظار نہ کیا جائے۔کام شروع ہو جائے۔رقم ساتھ کے ساتھ جاتی رہے گی۔16 - مکرم آفتاب احمد خان صاحب کو ویزوں کے حصول اور دیگر رابطوں کے لئے ہدایات دی گئی ہیں۔17۔اخراجات:۔قادیان کے جلسہ سالانہ کے اخراجات کے سلسلہ میں وہاں کا بجٹ بہت کم ہے۔مستقل تعمیرات کے لئے صد سالہ جو بلی فنڈ کی مد سے رقم لی جائے گی۔18۔آپ کی طرف سے بھجوائی جانے والی سکیم کے تحت مہمانوں کی تعداد میں ہزار متوقع ہے۔فرمایا ہے کہ یہ تعداد میں ہزار (30,000) تک جاسکتی ہے اسکے مطابق پلان تیار کیا جائے۔19۔جو مغربی ممالک اپنے عارضی مہمانوں کے لئے گیسٹ ہاؤس تیار کریں گے۔ان میں بستروں کا بھی