دورۂ قادیان 1991ء — Page 13
13 میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس جو اُن کی اطاعت کرے گا وہ میری اطاعت کرے گا اور جو حضرت مسیح موعود ال کی اطاعت کرے گا وہ رسول کریم ہی کی اطاعت کرے گا اور وہی مومن کہلا سکتا ہے دوسرا نہیں۔اے عزیز و! احمدیت کی آزمائش کا وقت اب آئے گا اور اب معلوم ہوگا کہ سچا مومن کونسا ہے۔پس اپنے ایمانوں کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ پہلی قوموں کی گردنیں تمہارے سامنے جھک جائیں اور آئندہ نسلیں تم پر فخر کریں۔شاید مجھے تنظیم کی غرض سے کچھ اور آدمی قادیان سے باہر بھجوانے پڑیں مگر وہ میرے خاندان میں سے نہ ہوں گے بلکہ علماء سے ہوں گے۔اس سے پہلے بھی میں کچھ علماء باہر بھجوا چکا ہوں۔تم اُن پر بنتی نہ کرو۔وہ بھی تمہاری طرح اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں لیکن خلیفہ وقت کا حکم انہیں مجبور کر کے لے گیا۔پس وہ ثواب میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں اور قربانی میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں۔ہاں وہ لوگ جو آنوں بہانوں سے اجازت لے کر بھاگنا چاہتے ہیں وہ یقیناً کمزور ہیں۔خدا تعالیٰ اُن کے گناہ بخشے اور سچے ایمان کی حالت میں جان دینے کی توفیق دے۔اے عزیز و! اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہر وقت تمہارے ساتھ رہے اور مجھے جب تک زندہ ہوں سچے طور پر اور اخلاص سے تمہاری خدمت کی توفیق بخشے اور تم کو مومنوں والے اخلاص اور بہادری سے میری رفاقت کی توفیق بخشے۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور آسمان کی آنکھ تم میں سے ہر مرد ہر عورت اور ہر بچہ کو سچا مخلص دیکھے اور خدا تعالیٰ میری اولاد کو بھی اخلاص اور بہادری سے سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق بخشے۔والسلام خاکسار مرزا محموداحمد خلیفة المسیح 30/08/47 ( الفضل 18 /حسان / جون 1327 ہش۔1948ء صفحہ:3)