دورۂ قادیان 1991ء — Page 12
12 آپ لوگوں سے پوچھا تھا کہ ایسے وقت میں اگر میرا جانا عارضی طور پر زیادہ مفید ہو تو اس کا فیصلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے یا میں نے۔اگر آپ نے کرنا ہے تو پھر آپ لوگ حکم دیں تو میں اسے مانوں گا لیکن میں ذمہ داری سے سبکدوش ہوں گا اور اگر فیصلہ میرے اختیار میں ہے تو پھر آپ کو حق نہ ہوگا کہ چون و چرا کریں۔اس پر آپ سب لوگوں نے لکھا کہ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔سو میں نے چند دن کے لئے اپنی سکیم کے مطابق کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ لوگ دعائیں کرتے رہیں اور حوصلہ نہ ہاریں۔دیکھو مسیح کے حواری کتنے کمزور تھے مگر مسیح انہیں چھوڑ کر کشمیر کی طرف چلا گیا اور مسیحیوں پر اس قدر مصائب آئے کہ تم پر ان دنوں میں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں آئے۔لیکن انہوں نے ہمت اور بشاشت سے ان کو برداشت کیا۔ان کی جدائی تو دائمی تھی مگر تمہاری جدائی تو عارضی ہے اور خود تمہارے اور سلسلہ کے کام کے لئے ہے۔مبارک وہ جو بدظنی سے بچتا ہے اور ایمان پر سے اس کا قدم لڑکھڑاتا نہیں۔وہی جو آخر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا انعام پاتا ہے۔پس صبر کرو اور اپنی عمر کے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کے وفادار رہو۔اور ثابت قدمی اور نرمی اور عقل اور سوجھ بوجھ اور اتحاد واطاعت کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ دُنیا عش عش کر اُٹھے۔جو تم میں سے مصائب سے بھاگے گا وہ یقیناً دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوگا۔اور خدا تعالیٰ کی لعنت کا مستحق تم نے نشان پر نشان دیکھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا منور جلوہ دیکھا ہے اور تمہارا دل دوسروں سے زیادہ بہادر ہونا چاہئے۔میرے سب لڑکے اور داماد اور دونوں بھائی اور بھتیجے قادیان میں ہی رہیں گے اور میں اپنی غیر حاضری کے ایام میں عزیز مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنا قائمقام ضلع گورداسپور اور قادیان کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ان کی فرماں برداری اور اطاعت کرو اور ان کے ہر حکم پر اس طرح قربانی کرو جس طرح محمد رسول اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں من أطَاعَ أَمِيْرِى فَقَدْ أَطَاعَنِيْ وَمَنْ عَصَى أَمِيْرِي فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے