دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 150 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 150

150 ”الـدار “ میں لے جاتا ہے۔”الدار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آبائی مکان ہے جو حضور علیہ السلام کا مولد ومسکن ہونے کے باعث مہبطِ انوار و برکات ہے۔چنیدہ بندگانِ الہی کی خصوصیات کے تسلسل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ان کے رہنے کے مکانات میں بھی خدائے عزو جل ایک برکت رکھ دیتا ہے۔وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے۔خدا کے فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں (حقیقۃ الوحی ) مزید برآں اسی مکان کی نسبت یہ الہامات متعدد بار حضور علیہ السلام کو ہوئے: اِنّى أُحافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ - (تذکرہ صفحہ ۳۴۸) کہ میں ہر ایک کو جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہے بچالوں گا۔کوئی ان میں سے طاعون یا بھونچال سے نہیں مرے گا۔فرمایا۔امن است در مکان محبت سرائے ما ( تذکر صفحہ ۴۵۶) ہماری محبت کا گھر امن کا گھر ہے۔اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ کی یہ فعلی شہادت چلی آرہی ہے کہ ہر قسم کے ارض و سماوی آفات وحوادث میں ” الدار “ اور اس کے ساکنین محفوظ و مامون چلے آرہے ہیں۔مسجد مبارک کے اسی دروازہ کے ساتھ سے الدار میں داخل ہوتے ہیں بائیں جانب کی طرف ” بیت الفکر ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۳۰۰ھ بمطابق ۱۸۸۳ء میں اس چوبارہ کے متعلق جس میں کہ حضور علیہ السلام نے اپنی معرکہ آراء کتاب براہین احمدیہ تالیف فرمائی، یہ الہام ہوا۔”أَلَمْ نَجْعَل لَكَ سُهُولَةً فِي كُلّ اَمرِ بَيْتِ الفِكْر“ ترجمہ: کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی ؟ تجھ کو بیت الفکر عطا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی کمرہ کی کھڑکی میں سے نکل کر بیت الذكر “ یعنی مسجد مبارک میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔اس بيت الفكر “ کے ساتھ والے کمرہ میں بیت الدعا“ کا دروازہ ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی خلوت کی دعاؤں اور خدا تعالیٰ سے خاص قوت کیلئے ۱۳، ذوالحجہ ۱۳۲۰ھ بمطابق ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء بروز جمعتہ المبارک کو یہ حجرہ جس کا نام آپ نے بیت الدعاء ، تجویز فرمایا، تیار کروایا اور خدا سے یہ دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنادے۔(ذکر حبیب۔مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب )