دورۂ قادیان 1991ء — Page 111
111 شوری کے دوسرے اور آخری اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔آپ نے تجویز نمبرا کی سب کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے سے قبل مکرم ڈاکٹر عبدالباسط خان صاحب آف کٹک امیر صوبہ اڑیسہ کو معاونت کے لئے بلایا۔مکرم محمد شفیع اللہ صاحب صدر کمیٹی نے سب کمیٹی کی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ازاں بعد حضور نے اس رپورٹ پر رائے طلب فرمائی۔چنانچہ ۱۲ نمائندگان نے اس رپورٹ پر بحث میں حصہ لیا۔آخر پر حضور نے فرمایا کہ تعلیمی اورطبی سہولتوں کی فراہمی اور صنعتوں کے قیام کی سکیم تیار کرنے کے لئے سب کمیٹی نے یہ مشورہ دینا تھا کہ کن لائنوں پر اس سکیم کو تیار کیا جاسکتا ہے۔اسکی تفاصیل میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔کیونکہ اتنے کم وقت میں اسکی تفاصیل کا جائزہ لینا ممکن ہی نہیں۔لہذا اب صوبائی کمیٹیاں اپنے اپنے مقامات پر اس بارے میں غور و مشورہ کر کے اپنی رپورٹ متعلقہ نظارتوں یعنی نظارت تعلیم اور نظارت امور عامہ کو بھجوادیں تا کہ وہ صدرانجمن میں مشورہ کے بعد مجھے پیش کریں۔البتہ اس رپورٹ کی ایک نقل مجھے براہ راست بھجوا دی جائے تا کہ میں جائزہ لوں کہ کس نہج پر کاروائی ہورہی ہے۔دوسری سب کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے سے قبل حضور نے مکرم عبدالحمید صاحب ٹاک آف یاڑی پورہ امیر صوبہ کشمیر کو معاونت کے لئے بلایا۔بعدہ مکرم سید فضل احمد صاحب نے سب کمیٹی کی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔حضور نے اس رپورٹ پر بحث میں حصہ لینے کے لئے نمائندگان کو موقع عطا فرمایا چنانچہ گیارہ نمائندگان نے بحث میں حصہ لیا۔آخر میں حضور انور نے قادیان میں نہ صرف آفسیٹ بلکہ کمپیوٹرائزڈ پر لیس کے قیام کے بارہ میں جائزہ لیکر رپورٹ پیش کرنے کے لئے مکرم ناظر صاحب اشاعت قادیان اور دیگر چھ ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی کی منظوری عطا فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ تمام امور کا جائزہ لیکرتفصیلی رپورٹ ۲۹ جنوری ۱۹۹۲ ء تک تیار کر کے آپ کو بھجوا دی جائے۔نمائندگان کے اظہار خیال پر ساتھ کے ساتھ حضور نے مجلس شورای کو زریں ہدایات اور ارشادات سے متمتع فرمایا۔شورای کا یہ آخری اجلاس مسلسل تین گھنٹے جاری رہنے کے بعد اختتامی دعا کے ساتھ ۷:۰۳ بجے شام اختتام کو پہنچا۔مجلس شوری کے اجلاس کے اختتام کے بعد نماز