دورۂ قادیان 1991ء — Page 108
108 رپورٹ مجلس مشاورت بھارت قادیان ۲۹ دسمبر ۱۹۹۱ء تقسیم ہند کے بعد قادیان میں مجلس مشاورت کا با قاعدہ انعقاد دو سال قبل شروع ہوا اور یہ تیسری مشاورت تھی۔لیکن تقسیم ملک کے بعد ہندوستان کی جماعت ہائے احمدیہ کی یہ اولین مشاورت تھی جو سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کی بابرکت موجودگی میں منعقد ہوئی۔چنانچہ صد سالہ جلسہ سالانہ قادیان کے اختتام پر اگلے دن مورخہ ۱۲۹ دسمبر ۱۹۹۱ء کو جلسہ گاہ میں مجلس مشاورت کا انعقاد عمل میں آیا۔اس مجلس مشاورت کے سیکرٹری مکرم مولا نا محمد انعام غوری صاحب آف قادیان تھے۔اگر چہ یہ مشاورت ملکی نوعیت کی تھی لیکن حضور نے از راہ شفقت صدرانجمن احمد یہ ربوہ کے ناظران، وکلاء، ناظمین و افسران صیغہ جات ، ایڈیشنل وکلاء لنڈن، پرائیویٹ سیکرٹری لندن و ربوہ۔پاکستان کی جماعتوں اور ضلعوں کے امراء ، بیرونی ممالک کے اُمراء، ذیلی تنظیموں کے ملکی صدران ، پاکستان اور بیرونی ممالک کے مربیان اور بیرون کی لجنہ اماء اللہ کی چیدہ چیدہ ممبرات کو بھی شامل کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔چنانچہ ہندوستان کی ۹۷ جماعتوں کے ۲۵۸ اور پاکستان کے علاوہ دیگر بیرونی ممالک کے ۱۹۶ یعنی کل ۴۲۸۱ مبران نے اس مجلس شورای میں شمولیت فرمائی۔اس تاریخی مجلس شورای کا پہلا اجلاس جلسہ گاہ کے شامیانے میں سوا دس بجے صبح مکرم محمود احمد صاحب شاد مربی سلسلہ ( شہید لاہور ۲۸ رمئی ۲۰۱۰ ء ) کی تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا۔اجلاس کی کارروائی میں معاونت کے لئے حضور انور نے مکرم محمد شفیع اللہ صاحب آف بنگلور صوبائی امیر کرناٹک کو اپنے ساتھ سٹیج پر بلایا۔ازاں بعد حضور نے سیکرٹری شوری سے ایجنڈا طلب فرمایا۔مکرم محمد انعام غوری صاحب سیکرٹری شوری نے چند جماعتوں کی طرف سے موصولہ تجاویز پیش کیں۔اس پر حضور اقدس نے قرآن کریم اور سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور سنت اور خلفائے راشدین کے طریق پر روشنی ڈالتے ہوئے شوری کی اہمیت کو واضح فرمایا اور بھارت کی جماعتوں کو اس امر کی طرف متوجہ فرمایا کہ مرکز قادیان ہی سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں شوری کے انعقاد کا آغاز ہوا تھا۔لیکن تقسیم ملک کے بعد ہندوستان کی جماعتیں اس اہم (Institution) ادارہ سے ناواقف ہوتی چلی گئیں۔اب پھر دوسال سے شوری کا انعقا د شروع