دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 105 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 105

105 مستقبل میں مشکلات پر قابو پانے کیلئے میری دلی اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ اور آپ کی جماعت کے ساتھ ہیں۔مجھے امید ہے کہ امام جماعت احمدیہ کی قادیان میں موجودگی کی وجہ سے جلسہ سالانہ انتہائی کامیاب ہوگا اور جو لوگ اس جلسہ میں شامل ہیں اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے برکات حاصل ہونگی۔“ جلسہ سالانہ کے سٹیج پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی محمد حسین صاحب (سبز پگڑی والے) کرسی پر تشریف فرما تھے۔لیکن سب حاضرین جلسہ آپ کو دیکھ نہ سکتے تھے۔حضور نے ان کی کرسی خاص طور پر سامنے کروائی تا کہ سب حاضرین جلسہ اُن کا دیدار کر کے تابعی بن جائیں۔اسی طرح مکرم چوہدری عبدالرحمن صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر ضلع گوجرانوالہ وصدر قضا بورڈر بوہ کی والدہ محترمہ جو صحابیہ تھیں اور اُن کی عمر ایک سو سال تھی۔اُن کی کرسی بھی زنانہ جلسہ گاہ میں سٹیج پر رکھوائی اور حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا: ان وجودوں کو اچھی طرح سے دیکھ لیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں سوسال تک گواہ کے طور پر زندہ رکھا اور آج یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔چار بجگر پانچ منٹ پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع کا خطاب شروع ہوا۔حضور کا خطاب سننے کیلئے بڑی تعداد میں سکھ اور ہندو وغیرہ بھی جلسہ میں شامل ہوئے اور دوران خطاب حضرت گورو بابا نانک جی مہاراج اور حضرت کرشن جی مہاراج اور حضرت مرزا غلام احمد کی جے کے نعرے لگتے رہے۔علاوہ دیگر نعروں کے حضور نے وا ہے گرو۔اللہ اکبر کے نعرے بھی لگوائے۔حضور انور نے اپنے خطاب میں جہاں کامیاب جلسہ سالانہ قادیان کے انعقاد پر شکر اور حمد کے جذبات کا ظہار فرمایا وہاں اپنے خطاب کے موضوع میں حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کی روشنی میں انقلاب روس کا ذکر بھی بیان فرمایا۔نیز ہندوستان میں بسنے والی اقوام کو صلح کا جو پیغام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی آخری کتاب میں دیا اس کو دُہرایا۔اسی طرح اسلام کے پیغام محبت اور رواداری جو کہ گورونانک اور کرشن جی مہاراج نے بھی دیا تھا۔اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات و تحریرات کی روشنی میں بیان فرمایا۔