دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 106 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 106

106 آپ کے اس عظیم الشان خطاب کا غیر مسلم حاضرین کے چہروں پر انتہائی خوش گوار اثر تھا۔آخر میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے فرمایا کہ قادیان کی بستی سے جماعت احمدیہ کوخواہ دنیا کے کسی خطہ میں رہتی ہو، ایک محبت ہے اور قادیان میں میرا یہ پہلا سفر تو ہے آخری نہیں۔خدا کرے کہ میں پھر یہاں آؤں اور خدا کرے کہ ہم دس دس ہیں میں لاکھ کے جلسے یہاں منانے لگیں۔آپ نے مختلف ممالک اور اقوام سے تعلق رکھنے والے احمدی و غیر احمدی حاضرین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ سرزمین ہے جس میں اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی جانے والی ہے۔آپ نے آخر میں درویشان قادیان کو اور اسیران راہ مولیٰ کو جو جیلوں کی صعوبتوں میں گرفتار ہیں، خصوصی طور پر اپنی دعاؤں میں یادرکھنے کی تاکید فرمائی۔اجتماعی دعا کے ساتھ آپ نے تمام حاضرین جلسہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کی زبان میں ”مبارک سومبارک دی۔شام کے دھندلکے میں حضور نے اجتماعی دعا کے بعد تمام احباب کو خدا حافظ کہا اور فلک شگاف نعروں کی گونج میں انتہائی کامیابی کے ساتھ یہ تاریخی ساز اور تاریخی اور غیر معمولی برکتوں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا حامل جلسہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے سائے تلے اختتام پذیر ہوا۔الحمد الله على ذلك ثم الحمد لله - شام سات بجے نماز مغرب وعشاء حضور کی اقتداء میں جلسہ گاہ میں ادا کی گئیں۔ان کے بعد حضور انور نے حسب ذیل چار نکاحوں کا اعلان فرمایا۔ا۔مکرم خالد نبیل ارشد صاحب ابن مکرم عبدالباقی ارشد صاحب آف لندن همراه محترمه منصورہ سلام صاحبہ بنت مکرم عبد السلام صاحب آف لاہور۔مکرم عبدالقیوم رشید صاحب ابن مکرم چوہدری عبدالرشید صاحب آرکیٹکٹ آف لندن ہمراہ محترمہ فرزانہ بشیر صاحبہ بنت چوہدری بشیر احمد صاحب نائب امیر ملتان۔مکرم سید محمود احمد صاحب ابن مکرم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب ربوه همراه محترمه سیده طیبه صاحبہ بنت مکرم سید بشیر احمد صاحب آف پھگلہ مکرم تقی محمد صاحب ابن ڈاکٹر حافظ صالح محمد الہ دین صاحب آف حیدر آباد دکن همراه محتر مہ سعدیہ نیم صاحبہ بنت چو ہدری محمد نعیم صاحب آف کراچی۔