دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 14 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 14

14 اگلے روز (31 ظہور راگست 1326 ہش۔1947 ء) کو حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے روانگی سے قبل اپنے لخت جگر صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منوراحمد صاحب کو قصر خلافت کا بالائی کمرہ سپر دفر مایا اور انہیں اپنے بعد اس میں قیام پذیر ہونے کی ہدایت فرمائی۔ازاں بعد حضور کیپٹن ملک عطاء اللہ صاحب آف دوالمیال کی ایسکورٹ (Escort) میں قریباً ایک بجے احمد یہ چوک قادیان میں موٹر میں سوار ہوئے اور پھر سوا ایک بجے کوٹھی دار السلام قادیان میں پہنچے جہاں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور نوابزادہ میاں عباس احمد خاں ( جو حضور کے ساتھ ہی کوٹھی دار السلام میں آئے تھے اور ان کے علاوہ خاندان مسیح موعود ال کے بعض اور افراد نے حضور کو الوداع کہا اور آپ یہاں سے بذریعہ موٹر روانہ ہو کر ساڑھے چار بجے کے قریب شیخ بشیر احمد صاحب امیر مقامی جماعت احمدیہ لاہور کے مکان پر بخیر و عافیت پہنچ گئے۔اس تاریخی سفر میں حضرت سیدہ ام متین صاحبہ اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ ( حرم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ) بھی حضور کے ہمراہ تھیں۔حضرت مسیح موعود کی ہجرت سے متعلق ایک اہم پیشگوئی کا شاندار ظہور لمصله حضرت سیدنا فضل عمر خلیفہ امسیح الثانی المصلح الموعود ﷺ کی ہجرت پاکستان سے حضرت مسیح موعود کی ۸۶-۱۸۸۵ء کی ایک خواب پوری ہوئی جس میں حضور ﷺ پر انکشاف کیا گیا تھا کہ آپ خود یا آپ کا کوئی خلیفہ ہجرت کرے گا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے لیکن بعض رویا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولا دیا کسی متبع کے ذریعے سے پورے