دورۂ قادیان 1991ء — Page 85
85 کر ہم نے اپنی دعاؤں کو غیر معمولی طور پر مقبول ہوتے دیکھا کہ گیسٹ ہاؤس میں تمام کے تمام کمرے جن کی تعداد پانچ تھی اس روز خالی تھے جو کہ محض ایک اتفاق تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص انتظام کے طور پر تھا۔ان پانچ کمروں میں اس قافلہ کے سارے افراد نے بڑے آرام سے رات گزاری۔گیسٹ ہاؤس کے عملہ نے نہایت ادب اور احترام اور خلوص و محبت سے مہمان نوازی کی۔رات کا کھانا اور صبح کا ناشتہ تیار کر کے دیا اور دیگر ضروریات فراہم کیں۔فجر اهم الله اگلے روز ۲۴ / دسمبر کو صبح ناشتہ کے بعد سفر کو بعد دعا جاری رکھا گیا۔سردی کی زیادتی اور دھند کی وجہ سے آج کا سفر تقریباً صبح ساڑھے 9 بجے شروع ہو سکا۔۔۔بالآخر تقریباً ساڑھے بارہ بجے دو پہر یہ قافلہ پر نم آنکھوں سے عشق مسیح محمدی سے لبریز دل لئے ہوئے اور شکر الہی میں سجدہ ریز روح کے ساتھ نعرہ ہائے تکبیر کی گونجوں کے استقبال میں قادیان دارالامان میں دارا مسیح میں داخل ہوا۔فالحمد لله ثم الحمد لله على ذلك - ۱۲۴ دسمبر ۱۹۹۱ء بروز منگل۔قادیان سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع حمد اللہ نےنماز فجر چھ بج کر میں منٹ پر پڑھائی جس کے بعد آپ بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے جہاں پر آپ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار اور قطعہ خاص میں دیگر قبروں پر دعا کی۔اسکے بعد قطعہ قاص سے باہر دائیں جانب قبروں کی تختیوں کو دیکھتے ہوئے زیر لب دعائیں کرتے ہوئے گزرے۔اس کے بعد بہشتی مقبرہ سے واپسی پر ناصر آباد میں سے گزرتے ہوئے مختلف درویشوں کے گھروں کے باہر کھڑے مردوزن جود یدار محبوب کے لئے اس کی راہ گزر پر نظریں بچھائے ہوئے تھے، انہیں ملتے ہوئے اور ان سے استفسار کرتے ہوئے کہ یہ کن کن کے گھر ہیں؟ آپ جلسہ گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔وہاں سے احمد یہ چوک سے ہوتے ہوئے واپس دار ا مسیح تشریف لائے اور منارۃ اُسیح کے اوپر تشریف لے گئے۔آپ کے ہمراہ آپ کی صاحبزادیاں، صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب نیز صاحبزادہ مرزا شمیم احمد صاحب