دورۂ قادیان 1991ء — Page 86
86 کی ایک صاحبزادی سمیرا احمد صاحبہ بھی تھیں۔ساڑھے نو بجے سے سوا گیارہ بجے تک حضور نے صوبہ سندھ سے آئے ہوئے افراد جماعت سے ملاقات کی۔مستورات نے مسجد مبارک میں اور مردوں نے مسجد اقصیٰ میں ملاقات کا شرف حاصل کیا ظہر وعصر کی نماز میں حضور کی اقتداء میں ایک بج کرتیں منٹ پر مسجد اقصیٰ میں ادا کی گئیں۔آج شام پونے پانچ بجے سے چھ بجے تک صوبہ سندھ و پنجاب پاکستان سے آئے ہوئے افراد جماعت کو آپ نے شرف ملاقات بخشا۔اسی طرح ساڑھے آٹھ بجے تا سوا دس بجے شب صوبہ پنجاب انڈیا، ہریانہ اور ھما چل پردیش کے احباب نے حضور اقدس سے ملاقات کا شرف پایا۔مستورات کے لئے مسجد مبارک میں اور مردوں کیلئے مسجد اقصیٰ میں ملاقات کا انتظام تھا۔بعد ادا ئیگی نماز مغرب وعشاء حضور مسجد اقصیٰ میں رونق افروز ہوئے اور مجلس عرفان منعقد ہوئی جو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔آج بھی آپ کو بدستور فلو کی شکایت رہی۔۲۵ / دسمبر ۱۹۹۱ء بروز بدھ۔قادیان سیدنا حضرت خلیلة امسیح الرابع نے نماز فجر مسجد اقصیٰ میں پڑھائی۔سات بجے آپ دار مسیح سے بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے اور حسب معمول سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر دعا کی۔اسکے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کی قبر اور دیگر قبروں پر دعا کی۔حضور کی ایک صاحبزادی ، کرم مرزا شمیم احمد صاحب مرحوم کی دو صاحبزادیاں اور صاحبزادہ مرز القمان احمد صاحب آپ کے ہمراہ تھے۔بہشتی مقبرہ سے حضور واپس تشریف لائے تو راستے میں شوق دیدار سے سرشار کثیر تعداد میں احباب آپ کا انتظار کر رہے تھے۔آپ نے انہیں السلام علیکم کہا اور ناصر آباد سے جلسہ گاہ کو جانے والی گلی میں داخل ہوئے۔گلی میں بائیں جانب گھروں کے مکین ، دروازوں میں کھڑے آپ کی آمد کے منتظر تھے۔آپ رک کر ان سے ملتے اور دریافت فرماتے تھے کہ یہ کس کا گھر ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔اسکے