دورۂ قادیان 1991ء — Page 80
80 ٹھہرانے کے لئے جماعت کو پیش کیا تھا۔فجزاهم الله احسن الجزاء بعد ازاں حضور اقدس مسجد نور میں تشریف لے گئے جو تعلیم الاسلام کا لج ( حال سکھ نیشنل کالج) میں واقع ہے۔جہاں پہلے تعلیم الاسلام سکول ہوتا تھا یہ بھی مہمانوں کے قیام کے لئے رضا کارانہ طور پر لیا گیا تھا اور یہاں بورڈنگ کے گیٹ پر شر ما صاحب ہیڈ ماسٹر سکول نے حضور کا استقبال کیا۔یہاں پاکستان کی مختلف جماعتوں کے افراد ٹھہرے ہوئے تھے اور بورڈنگ کے برآمدہ میں حضور کے انتظار میں کھڑے تھے۔حضور نے جب پاکستان کے افراد سے مصافحہ کیا۔بعض احباب جذبات سے بے قابو ہو رہے تھے۔حضور نے ان کو سنبھلنے کا اشارہ کیا۔سوا ایک بجے آپ معائنہ ختم کرنے کے بعد واپس دار مسیح تشریف لائے اور آپ نے ڈیڑھ بجے نماز ظہر و عصر مسجد اقصیٰ میں پڑھائیں۔کارکنان جلسہ سے خطاب پچھلے پہر چار بجے حضور انور نے مسجد اقصیٰ میں منتظمین جلسہ سالانہ سے خطاب فرمایا۔مکرم قاری نواب احمد صاحب کی تلاوت قرآن مجید کے بعد آپ نے فرمایا کہ ایسی تقریبات میں سالہا سال سے مجھے شرکت کی توفیق ملتی رہی ہے۔قادیان میں بھی ، ربوہ میں بھی اور خلافت کے بعد بھی توفیق ملتی رہی ہے۔لیکن اس وقت میرے دل میں مختلف خیالات اور جذبات کا طوفان موجزن ہے۔ان جذبات پر میں بے قابو ہو رہا ہوں۔حضور انور پر رقت طاری تھی۔آپ نے فرمایا وو 66 یہ صد سالہ جلسہ عام جلسوں کی طرح نہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کا ایک ہی جلسہ ہے۔سو سالہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہے گی لیکن یہ پہلا جلسہ بہر حال پہلا جلسہ ہے۔ہم آپ سب بہت خوش قسمت ہیں کہ اس تاریخی جلسہ میں جو صرف سو سال میں ہی ایک دفعہ دوہرایا جاتا ہے ، شرکت کی توفیق ملی ہے۔“ حضور انور نے نظم و ضبط کو قائم کرنے اور اعلیٰ اخلاق کے مظہر بن کر خدمت بجالانے کی